انسانی حقوق کی صورتحال بہترہوئی نہ حکومت کی کوئی سمت ہے: ہیومن رائٹس کمشن

اسلام آباد(ثناء نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال اور ان معاملات کو ترجیح نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن اجلاسوں کے اختتام پر جاری  بیان میں کہا گیا کہ ملک میںکمشن کی  اب تک چھ ماہ کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی کوئی سمت نہیں۔ واضح پالیسیوں کا فقدان ہے۔  ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے علاقائی تناؤ کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایچ آر سی پی حکومت کو یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ حکومت پلاننگ کمیشن کے کار منصبی کو وسعت دے تاکہ یہ ملک کو درپیش سیاسی و سماجی مسائل کے حوالے سے ایک تھنک ٹینک کے طور پر کام کر سکے۔ انسداد دہشت گردی پالیسیوں کو شہریوں کو نشانہ بنانے کی بجائے ان کا تحفظ کرنا  چاہیے۔  ایچ آر سی پی کو افسوس ہے کہ بلوچستان حکومت نے اس کے ایک انسانی حقوق کمیشن تشکیل دینے کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ کوئٹہ میں اعزازی حیثیت سے ایک خود مختار انسانی حقوق کمشنر اور ہر ضلعے میں انسانی حقوق کے افسر تعینات کیے جائیں ۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ ایچ آر سی پی کی توتک، جہاں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی تھی، کا دورہ کرنے کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔ کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کوایک خود مختار ادارہ بنایا جائے۔ ایچ آر سی پی مالاکنڈ میں ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کے تحت  گرفتاریوں کی مذمت کرتا ہے۔ مالاکنڈ سے جبری گمشدگیوں اور زیر حراست اموات کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے ریاستی قوت کے غلط استعمال کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تضحیک مذہب قوانین کے ذریعے مذہبی اقلیتوں کو اذیتیں پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ جرات کا مظاہرہ کرے اور ان قوانین میں تبدیلی کے لیے بحث کا آغاز کرے۔ بیان کے مطابق جبری گمشدگیوں اور لاشیں پھینکنے کے واقعات کا دائرہ کار خیبرپی کے اور سندھ تک وسیع ہوگیا ہے۔  تمام افراد کو جبری گمشدگیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی میثاق کی توثیق کی جائے۔