ادارے آئینی حدود میں کام کریں تو تصادم نہیں ہوگا، تلخیاں نہیں ہونی چاہئیں: فضل الرحمن

ادارے آئینی حدود میں کام کریں تو تصادم نہیں ہوگا، تلخیاں نہیں ہونی چاہئیں: فضل الرحمن

 نوشہرہ+ اسلام آباد (این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تلخیاں نہیں ہونی چاہئیں، ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں تو تصادم نہیں ہوگا۔ ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اداروں کے درمیان تلخیاں ہوں، سب ایک ہی ملک کے ادارے ہیں اور انکے درمیان تعاون ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میڈیا کچھ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جبکہ زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں مسئلہ اتنا بڑا نہیں جتنا بنایا گیا۔ افغانستان میں امریکہ کی سربراہی میں غیر ملکی جارحیت ہوئی ٗجے یو آئی افغانستان میں طالبان کی دفاعی حیثیت کو جائز سمجھتی ہے ٗافغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کی حمایت کرتے ہیں، امن سیاسی مفاہمت سے آسکتا ہے،پاکستانی طالبان بات چیت پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں،نتیجہ نہ نکلنے کی وجہ صحیح حکمت عملی کا نہ ہونا ہے ٗ  تمام مدارس اور مذہبی تنظیمیں پاکستان میں مسلح جدوجہد کی مخالف ہیں ۔ بی بی سی پشتو ٹیلیویژن کے ساتھ انٹرویو میں فضل الرحمن نے کہاکہ ان کی جماعت افغان جنگ میں ملوث نہیں ٗ انکی پارٹی کا سیاسی موقف ہے کہ طالبان کی مسلح جدوجہد جائز ہے۔ علاوہ ازیں فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حامد میر پر حملے سے ملک میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا، فوج، میڈیا، سیاسی جماعتوں اور عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے، موجودہ اضطراب سے نکلنے کیلئے احتیاط کی ضرورت ہے، پیمرا کے فیصلے کا انتظار ہے ہم جیو نیوز کی بندش کے حامی نہیں۔ میڈیا اور دیگر تنظیموں کے ردعمل سے حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔