پاکستان اور ایران کا سرحدوں کے موثر کنٹر ول کو یقینی بنانے پر اتفاق

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + اے پی پی) پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی کشیدگی سے پیدا شدہ ماحول کے دوران سالانہ سیاسی مشاورت کا دور دفتر خارجہ میں ہوا۔ اس دوران اضافی روابط کے ذریعے سرحدوں کے مؤثر کنٹرول کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ  ابراہیم  رحیم پور  نے اپنے وفد کی قیادت کی۔ سیکرٹری خارجہ  اعزاز چودھری کے ساتھ مشاورت کے دور میں  حصہ لینے کے علاوہ انہوں نے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کے ساتھ بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور طے پایا کہ  دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات  کو چند واقعات کا اسیر نہیں بنانا چاہئے اور  اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ مہینوں میں  اعلیٰ سطح کے دو طرفہ دوروں سے یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ  سرحدی  واقعات سے پاکستان اور ایران کے درمیان  برادرانہ تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے۔ اس قسم کی صورتحال کے اعادہ سے اجتناب کیلئے  ادارہ جاتی میکنزم  کی پیروی کی جائے۔ قبل ازیں مشاورت کے موقع پر  دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں اور پاکستان ایران گیس پائپ لائن  سمیت تمام امور پر بات چیت کی گئی۔ یہ طے کیا گیا باہمی تعلقات کو معیشت  اور دوسرے شعبوں میں  تعاون کی شکل دینے کیلئے مزید ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ طے پایا کہ سرحد پر برادرانہ اخوت برقرار رکھی جائے گی۔ ایرانی وفد کو پاکستان کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات  اور بطور خاص  افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ دوطرفہ مشاورت کا اگلا دور اب اگلے برس تہران میں ہو گا۔