قومی اسمبلی‘ فضل الرحمن پر قاتلانہ حملہ اور لندن واقعہ کارروائی پر چھایا رہا

اسلام آباد (عترت جعفری) جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن  خودکش حملے اور لندن میں کشمیری عوام کے مظاہرہ کے دوران بدمزگی کا واقعہ قومی اسمبلی کی کارروائی میں چھایا رہا۔ مولانا فضل الرحمن‘ وزیر مملکت عبدالغفور حیدری نے بھی ایوان میں اظہار خیال کیا۔ دوسرے  رہنماؤں کی تقریر کے بعض حصے ایسے ہیں جن میں ایک خاص سمت میں انگلی اٹھائی گئی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ایوان نے اب قرارداد منظور کرکے عدالتی انکوائری کے لئے کہا ہے تحقیقات میں تقاریر میں ظاہر کئے جانے والے تحفظات پر بھی تحقیق ہونی چاہئے۔ وقفہ سوالات میں سوال پوچھنے والے بیشتر ارکان ایوان میں نہیں تھے۔شیخ روحیل اصغر نے ایک موقع پر سپیکر سے کہا کہ وزیر پارلیمانی سیکرٹری ایوان میں نہ آئے تو سوال ڈیفر ہو جاتا ہے اگر رکن  نہ ہو تو سوال کو ڈیفر کیا جائے۔عبدالغفور حیدری نے وزیر داخلہ کی موجودگی میں گلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمن پر حملے  کو5 روز گزر گئے وزیر داخلہ نے فون تک نہیں کیا۔چودھری نثار علی خان نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا اور خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔اپوزیشن لیڈر نے لندن کے واقعہ پرنکتہ چینی کی تاہم تحریک انصاف کا نام نہیں لیا۔