سینٹ اور قومی اسمبلی میں فضل الرحمٰن پر خودکش حملے کیخلاف متفقہ قراردادیں

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) سینٹ اور قومی اسمبلی نے مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے کی مذمت کی اور اس حملے کیخلاف قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اس واقعہ میں شہید ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی مالی معاونت کی جائے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے اور مولانا فضل الرحمن کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے۔ واقعہ کی تحقیقات کی جائے اور خود کش حملے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دیدی۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے یہ حملہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور جمہوریت کو لپیٹنے کی سازش کا حصہ ہے۔ سازش میں اندرونی و بیرونی قوتیں ملوث ہیں۔ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اگر مولانا کو کچھ ہو جاتا تو پتہ نہیں آج ملک کے حالات کیا ہوتے۔ امریکہ ایسی قوتوں کی سرپرستی کرتا ہے جو بندوق کے زور پر شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ فضل الرحمن پر حملہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزیر داخلہ نے فون تک نہیں کیا اور نہ ہی کوئی بیان دیا۔ بتایا جائے کہ ہمارے پاس پاکستان میں رہنے کا کیا جواز ہے۔ اس حد تک کیوں لے جا رہے ہیں کہ ہم اسلحہ اٹھائیں۔ خورشید شاہ نے کہاکہ فضل الرحمن پر حملہ اس وقت کیا گیا جب بھارتی فورسز بھی حملہ آور ہیں۔ دشمن پاکستان کو اتنا کمزور کرنا چاہتے ہیں جہاں جان و مال کا تحفظ نہ رہے۔ فضل الرحمن پر حملہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی سازش ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔