سینٹ: اسلامی بنکاری کے فروغ کی متفقہ قرارداد

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) سینٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ کی صدارت میں ہوا۔ ملک میں اسلامی بنکاری نظام کے فروغ سے متعلق قرارداد سینٹ میں متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد سینیٹر حافظ حمد اللہ نے ایوان میں پیش کی جبکہ سینٹ نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے اور پارلیمنٹ کو فاٹا کیلئے قانون سازی کا اختیار دینے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ ملک میں 22 اسلامی بنک اور ان کی 1300 برانچز ہیں۔ اسلامی بنکاری کا مجموعی بنکاری میں حصہ 20 فیصد ہے ملک میں 2020ء تک اسلامی بنکاری کا مجموعی نجکاری نظام کا حصہ دوگنا ہو جائے گا۔ سینٹ میں نجکاری کا جائزہ لینے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی قرارداد پیش کی گئی۔ قرارداد پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے پیش کی۔ کمیٹی میں تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہو گی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ان یونٹس کا جائزہ بھی لیا جائے جن کی نجکاری کی گئی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک بڑھانے کی قرارداد سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کی اور کہا کہ پارلیمنٹ کو فاٹا کے لئے قانون سازی کے قابل بنانے کے لئے آرٹیکل 247 میں ترمیم کی جائے۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کی اکثر بات کی جاتی ہے اس کی بہت ضرورت ہے۔ فاٹا میں ہائی کورٹ اور بنیادی انسانی حقوق کا نظام نہیں ہے، یہ معاملہ فاٹا کے لئے مجموعی پیکج کا حصہ ہونا چاہیے، یہ معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ پورے ملک کے لئے قانون بناتے ہیں لیکن وہ اپنے علاقے کے لئے قانون سازی نہیں کر سکتے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، حکومت کاس کا احساس ہے اس پر تفصیلی غور اور رپورٹ کیلئے یہ معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ سینیٹر حاجی محمد عدیل نے کہا کہ ہم قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے ان کے ساتھ ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ فاٹا میں نو آبادیاتی طرز کا نظام چل رہا ہے اس کے خاتمے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ فاٹا کے عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری سے ایک اچھا پیغام جائے گا۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ قبائلیوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت کی پاکستان اور اسلام دشمنی ڈھکی چھپی نہیں، پوری قوم کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔ راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر زبردستی قبضہ کیا ہے، کشمیر کا اس کے ساتھ الحاق نہیں ہوا۔ قائم مقام چیئرمین سینٹ سینیٹر صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ لندن میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور انداز میں آواز اٹھائی ہے، پاکستان کی بات کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے کارکنوں کی وجہ سے ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ علاوہ ازیں سینٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان خیبر پی کے میں سکھ برادری کے بعض افراد کے قتل کے واقعات پر ارکان چیخ اٹھے اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر تحقیقات اور ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے  اور صوبائی حکومت کی ناکامی کی صورت میں وفاق سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خیبر پی کے میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے قتل کے حوالے سے تحریک التواء پر بات کرتے ہوئے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ خیبر پی کے میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ اتوار کے روز صوابی میں دن دیہاڑے ایک کالج کے پرنسپل کواغواء کر لیا گیا، حالات یہ ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت کے 2 وزراء طالبان کوبھتہ دے رہے ہیں وہ وہاں کیسے امن قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے سے جہاں سے عمران خان کو مینڈیٹ ملا وہاں سے 580 اقلیتی خاندان ملک چھوڑ کر بیرون ممالک اور دیگر علاقوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اگر ایک ماہ میں چھ اقلیتی برادری کے اراکین مارے جاتے ہیں توہم دنیا کو کیسے منہ دکھائیں گے۔ سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ پشاور میں کوئی طبقہ ایسا نہیں ہے کہ جس کو بھتے کی پرچیاں نہیں ملتیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ اقلیتی برادری کا اس ملک پر پورا پورا حق ہے کیونکہ وہ پاکستانی ہیں اور ان کی حفاظت کرنا  اور انہیں ان کے حقوق فراہم کرنا ہمارا آئینی، ملکی مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔ اقلیتوں کی حفاظت ناکام رہنے والی حکومت کا برسراقتدار رہنے کا کوئی حق نہیں۔ سینیٹر حاجی غلام علی نے کہا کہ بلاشبہ اقلیتوں کا قتل عام قابل مذمت ہے اور اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام موجودہ وزراء سے استعفیٰ لیا جائے کیونکہ اگر وہ کام نہیں کر سکتے تو ان کی حمایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اقلیتی سنیٹر ہیمن داس نے کہا کہ خیبر پی کے میں اقلیتی کمیونٹی بھتہ نہ دے تو انہیں پارٹی کے بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے لیکن مہینوں سے خیبر پی کے میں کوئی حکومت نہیں۔ ہندو اور سکھ کمیونٹی کو تحفظ دیا جائے۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرؤف لالہ نے کہا کہ قیام پاکستان کے دوران اقلیتی برادری جہاں بھی رہی اس نے وہاں کی مٹی کو اپنی مٹی سمجھا۔ علاوہ ازیں سینٹ نے 1973ء سے 2013ء تک مختلف اداروں کی نجکاری کے ملازمین اور معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے سے متعلق کمیٹی قائم کرنے کی قرارداد کی منظوری دیدی۔ سینیٹر رضا ربانی نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ 1973ء سے 2013ء کی نجکاری پالیسی اور مختلف اداروں کی نجکاری کے ملازمین اور معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لئے سینٹ کی ایک کمیٹی قائم کی جائے۔ علاوہ ازیں سینٹ فورم برائے پالیسی تحقیق کے قیام کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق نے تحریک پیش کی کہ قواعد و ضوابط کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012ء کے قاعدہ 269 کے ذیلی قاعدہ 4 کے تحت ترامیم پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ سینٹ فورم برائے پالیسی تحقیق 16 اراکین پر مشتمل ہو گا، آٹھ سینیٹ کے موجودہ ارکان اور آٹھ سابق ارکان سینٹ جن کو چیئرمین سینٹ ایوان میں پارلیمانی رہنمائوں کی مشاورت سے نامزد کریں گے۔ چیئرمین سینٹ فورم کے سرپرست ہوں گے۔ اجلاس آج شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔