حکومت نندی پور پاور پراجیکٹ کے سفید ہاتھی کو کیوں پال رہی ہے: قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (آن لائن ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے چیئرمین سینیٹر زاہد خان نے وفاقی وزیر اور وفاقی سیکرٹری کی اجلاس میںعدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہمارے تحفظات پر چیئرمین واپڈا کو گھر بھیج دیاگیا ہر جگہ گھپلے ہو رہے ہیں۔ سینیٹر زاہد خان نے نندی پور پاور پراجیکٹ کے بارے میں کہا 350 ملین کی لاگت سے 450 میگاواٹ بجلی پیدوار کا منصوبہ بھی فرنس آئل اور ڈیزل دونوں پر چلایا جائے گا اور قوم کو ڈیزل سے بننے والا بجلی کا فی یونٹ 36 روپے کا ہو گا اس سے تو بہتر تھا  منصوبہ ہی ختم کر دیا جاتا اور ہدایت دی نیلم جہلم اور نندی پور پاور پراجیکٹس کے آغاز سے لیکر اب تک ٹینڈر ، فنڈنگ اور تکمیل کی تفصیلات کے علاوہ تاخیر سے بڑھنے والی لاگت سے بھی کمیٹی کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، گولن گول ڈیم کے حوالے سے وزارت کی طرف سے کام شروع ہونے کی تفصیل کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے وزارت اور محکمہ کے افسران پر برس پڑے اور کہا سینیٹر نثار خان اور میں دونوں گواہ ہیں کام بند پڑا ہے۔کمیٹی میں جھوٹ بول کر مذاق کیا جارہا ہے، دونوں متعلقہ افسران کو نیب کے حوالے کر دونگا۔ ممبران فنانس واپڈا نے آگاہ کیا ڈیم پر سول ورک کا کام جاری ہے کویت فنڈ کی رقم جاری نہ ہونے کے باعث پاور ہائوس میں کام روکا ہوا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا جس رفتار سے کام ہو رہا ہے 2017ء میں بھی مکمل نہ ہو سکے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر زاہد خان نے کہا بجلی صارفین کو زائد بل بجھوانے کی ذمہ دار نیپرا ہے جس نے سلیبس دو سے پانچ کر دیں۔ وزیراعظم نے بھی اپنے فیصلے میں ڈنڈی ماری ایک طرف کہتے ہیں صارفین کی بلوں کی رقم ایڈجسٹ کی جائے اور دوسری طور کہہ دیا ہے آڈٹ کر کے آگاہ کیا جائے حکومت آڈٹ رپورٹ پر رقم خرچ نہ کرے ہم نے غلطی پکڑ لی ہے جس کو نپیرا پچھلے اجلاس میں تسلیم کر چکا اور کہا آئی پی پی پیز اس وقت بجلی 14 سے 16 روپے فی یونٹ دے رہے ہیں تو حکومت نندی پور پاور پراجیکٹ کے سفید ہاتھی کو کیوں پال رہی ہے جو 18 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرے گا اور اُس پر اربوں روپے لاگت بھی آئے گی۔ سینیٹر شاہی سید نے کہا ہم میں ذرا بھر بھی قابلیت ہوتی اور ملک سے مخلص ہوتے تو ہماری ترجیح دو روپے فی یونٹ بجلی کیلئے ڈیم ہوتے۔