اسلامی یونیورسٹی میں اسرائیلی ثقافتی سٹال، وزیراعظم ہائوس نے رپورٹ مانگ لی

اسلام آباد (میاں عمران عباس / وقت نیوز) پاکستان کی واحد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے زیر اہتمام ثقافتی میلے میں اسرائیلی ثقافت اور مصنوعات کا سٹال لگایاگیا جس سے قوم کا سرشرم سے جھک گیا اور فلسطینی شہدا کے خون سے غداری کی گئی۔ سٹال پر اسرائیلی جھنڈے والے بینرز، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تصاویر اور مختلف اسرائیلی مصنوعات رکھی گئی تھیں۔ سٹال میں دکھایا گیا کہ اسرائیل ایک پرامن ملک ہے،آ کر دیکھیں۔ اس حوالے سے وقت نیوز کے پروگرام ’’وقت ایٹ الیون‘‘ میں میزبان احتشام رحمن سے گفتگو میں ریکٹر اسلامی یونیورسٹی معصوم یاسین نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں یہ پروگرام  ہوتا ہے اکیڈمک ڈسکشن میں ہر گروپ اپنے ملک کو decide کرتا ہے ایسے ہی ایک گروپ کو اسرائیل گروپ ملا جس کی غلطی یہ تھی کہ اس نے بغیر اجازت اسرائیل کا ثقافتی سٹال بھی ساتھ میں لگا دیا اس امید پر کہ شاید ہماری پرفارمنس کے زیادہ نمبر مل جائیں۔ اسلامی یونیورسٹی ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور تصور ہی نہیں کرسکتا کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے کسی عمل کا حصہ بنے جس سے اس ملک کے لوگوں کی دل آزاری ہو یا کسی اسلامی ملک کے احساسات کو چوٹ لگے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد ایکشن لیا ہے اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی ہے جس میں ایک جج اور ایچ ای سی کے ڈائریکٹر شامل ہیں جو دو ہفتے میں سفارشات دے گی۔ ان سفارشات کی روشنی میں ایکشن لیا جائے گا۔ ایک سوال پر کہا کہ لڑکیوں نے غلطی کی جو او آئی سی چارٹر، ملک اور یونیورسٹی کی پالیسی اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ رپورٹ بتائے گی کہ کیا یہ ایک سازش کے تحت کیا گیا۔ رپورٹ کی روشنی میں سزا دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسانہ ہو۔ چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر مختار احمد نے کہا کہ واقعہ کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اسرائیل اسلام، مسلمانوں کا دشمن ملک ہے جسے پاکستان حکومت نے تسلیم بھی نہیں کیا۔ واقعہ پر یونیورسٹی کے ریکٹر سے بات ہوئی۔وزیراعظم ہائوس نے بھی نوٹس لیا ہے  اور رپورٹ مانگی ہے جو آج صبح گیارہ بجے دیں گے یو این ڈی پی کے زیر اہتمام ممالک کی پریذنٹیشن ہوتی ہے لیکن ان کی ثقافت کا بتانا، جھنڈے کو لگانا غلط ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی ثقافت کا ماڈل سٹال لگانے پر یونیورسٹی نے سٹاف کے 3ارکان کو معطل کر دیا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ کے ڈین، سٹوڈنٹ ایڈوائزر اور ایک خاتون لیکچرار کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کی مختلف طلباء تنظیموں پر قائم متحدہ طلباء محاذ کے زیرانتظام سی بلاک کے کرش اسرائیلی ریلی نکالی گئی۔ طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے سینکڑوں طلباء نے ریلی میں شرکت کی۔