پیمرا کی کوئی کارکردگی نہیں تو اسکا اچار ڈالیں‘ عوام پر بوجھ ہے : سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد اور صحافتی ضابطہ اخلاق بنانے سے متعلق وزیر اعظم کے خصوصی معاون عرفان صدیقی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی پیش رفت رپورٹس جبکہ پیمرا سے افسروں کی تعداد پے سکیل، مراعات، فنڈز کی آمد و خرچ کے بارے میں تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں، عدالت نے پیمرا کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ بول کا مالک کون ہے اور کیا چینل کے لائسنس کے اجراء سے پہلے پیمرا سکیورٹی کلیئرنس کے لئے تحقیقات کراتا ہے؟ اخبار پر تو ایڈیٹر پبلشر اور پرنٹرز کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ٹی وی چینل پر مالکان کے نام کی پٹی نہیں چل سکتی؟ معاملات میں خفیہ پالیسی کی کیا وجوہات ہیں؟جسٹس جوادیس خواجہ نے کہا کہ اگرپیمرا خود مختار ادار ہ نہیں تو اس کے کچھ رولز ریگولیشنز ہوں گے اگر چار سال میں ادارے کی کوئی کارکردگی نہیں ہے تو اسے بند کردیا جائے اس کے ملازمین و افسر عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں تو پھر یہ واپس کریں، کیس کی 105سماعتیں ہوچکی ہیں مگر احکامات پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت کیس پر حتمی فیصلہ دے گی جس پر سب کو عمل درآمد کرنا پڑگا اب متعلقہ لوگوں کی مرضی ہے پیارو محبت سے عمل کریں یا توہین عدالت کی کارروائی کے بعدآئین و قانون پر عمل ہوگا، عدالت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگایا جائے۔ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی عدالت مداخلت کریگی، سب کو مل کر کوڈ آف کنڈکٹ بنایا چاہئے۔ پمرا کے وکیل نے کہا پیمرا کی جانب سے معاملات ایڈہاک افسروں، مستقل چیئرمین پیمرا کی عدم تعنیاتی اور چینل کے اجراء میں حکم امتناعی کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ جسٹس جواد نے سرزنش کرتے ہوئے کہا اپنی غفلت کا ملبہ عدالت پر نہ ڈالیں سپریم کورٹ میں اس حوالے سے کتنے کیس التواء میں ہیں؟ وکیل پیمرا نے کہا کہ کوئی نہیں،جسٹس عظمت سعید نے کہا اگر 33ملین کے فنڈز کھو کھاتے او ر یتیموں کو دے دیے جاتے تو بہتر تھا جب پیمرا کی کارکردگی نہیں تو اس کا اچار ڈالنا ہے یہ ادراہ عوام پر بوجھ ہے اس کا کوئی ہولڈ اپ ہی نہیں، جسٹس جواد نے کہا عدالت نے شفاف فیصلہ دینا ہوتا ہے کسی کو خوش اور ناراض کرنا مقصد نہیں ہوتا۔ عدالت قائمہ کمیٹی اور پارلیمنٹ کو ڈائریکشن جاری نہیں کرسکتی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بھارت میں تو میڈیا اب پوری ایک انڈسٹری بن چکی ہے پاکستان میں بھی اس کی اہمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہ ایسا ہی ہے کہ سڑک بنائی جائے، ٹریفک ہو مگر اسے کنٹرول کرنے والی ٹریفک پولیس نہ ہو، ہر چیز کئے ایکٹ موجود ہیں۔ چیئرمین پیمرا چوہدری رشید نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا وزارت دفاع سے کلیئرنس لیتی ہے۔ پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 33ملین کی فنڈنگ ہوتی ہے اور یہی اس کے اخراجات ہیں، ملازمین کی تعداد 612ہے سکیل ایک سے سولہ اور 17سکیل سے اوپر کے بھی افسران، چیئرمین، ممبران وغیرہ ہیں جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ پیمرا نے آ ج تک ایک دھیلے کا کام نہیں کیا آپ کروڑوں کی تنخواہیں کب واپس کریں گے پیمرا نے دو ہزار دو کے بعد قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا یہ تشویشناک صورتحال ہے، عدالت نے پیمرا سے آج تک عوام کے ٹیکس کے پیسوں کیے جانے والے اخراجات کی تفصیل اور ٹی وی چینل کو دیے جانے والے لائسنسوں کی مد میں جمع کی جانے والی رقم کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔
میڈای کمشن کیس