لاکھڑا پاور منصوبے کی پیداوار زیرو ہے، سیکرٹری پانی وبجلی کا اے پی سی ذیلی کمیٹی میں اعتراف

اسلام آباد (آئی این پی+اے پی پی) پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں سیکرٹری پانی و بجلی  یونس ڈھاگہ نے تسلیم کیا کہ لاکھڑا پاور پراجیکٹ سے خراب فیصلہ تاریخ میں کوئی نہیں تھا، غلط فیصلوں کی سزا بھگت رہے ہیں، زیرو پیداوار ہے، ایک ساتھ تینوں یونٹ نہیں چل سکتے، اس پر خرچہ کرنا بے کار ہے، تھرکول پر آئی ڈی پیز کام کر رہی ہے، آڈٹ حکام نے بتایا کہ ریلوے حکام 23سال قبل 52لاکھ روپے کے سامان چوری میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کر سکے، کمیٹی کا شدید اظہار برہمی ، پاکستان ریلوے کی ملک بھر میں زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ مانگ لی۔بدھ کو ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینیئر کمیٹی شاہدہ اختر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت پانی و بجلی اور وزارت ریلوے کے برسوں پرانے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری  ریلوے پرویز آغا نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ریلوے بورڈ بن گیا ہے جلد ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہو گی، پاکستان ریلوے نے لینڈ مافیا سے دس ارب روپے کی اراضی واگزار کروائی ہے۔ جس پر کمیٹی نے پاکستان ریلوے کی ملک بھر میں زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ مانگ لی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ ریلوے کا 90 لاکھ سے زائد کا ناقص سامان خریدا گیا۔ وزارت پانی و بجلی کے آڈٹ اعتراضات میں بتایا گیا کہ لاکھڑا پاور پراجیکٹ میں تاخیر ہوئی، جس سے اس کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا،42 ماہ میں منصوبہ مکمل ہونے سے 2 ارب 65کروڑ 10لاکھ روپے کا خرچہ آنا تھا جو کہ 120 ماہ کے باعث 5 ارب 73کروڑ کا خرچ آیا۔ منصوبہ 87ء میں شروع ہونا تھا غفلت و لاپرواہی ثابت بھی ہوئی مگر سزائیں نہیں دی گئیں، جس پر لاکھڑا پاور پراجیکٹ کے تیسرے یونٹ کو ٹیسٹ کئے بغیر قبول کرلیا گیا، جس سے تقریباً 2 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ کمیٹی نے کہا کہ دو ہفتے میں انکوائری رپورٹ پیش کریں۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے بتایا کہ تھر کول میں سرکاری سطح پر کوئی سر مایہ کاری نہیں ہو رہی، نجی کمپنیز سرمایہ لگا رہی ہیں، تھر میں سارے آئی پی پیز ہیں۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے وزارت ریلوے کو ہدایت کی کہ زیر التواء آڈٹ اعتراضات کو محکمانہ آڈٹ کمیٹی (ڈی اے سی) کی سطح پر نمٹایا جائے اور اس کی رپورٹ ایک ماہ میں پی اے سی میں پیش کی جائے۔
پی اے سی/ذیلی کمیٹی