وزارت خارجہ کی طرف سے کشمیری قیادت کو پہلی بار کشمیر ہاﺅس میں بریفنگ

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) وزارت خارجہ کی طرف سے پہلی بار کشمیری قیادت کو دفتر خارجہ مدعو کرنے کے بجائے کشمیر ہاﺅس میں ان کیلئے بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ایک ذریعہ کے مطابق وزارت خارجہ کی اعلیٰ بیورو کریسی کے کشمیر ہاﺅس آنے سے کشمیری قیادت نے خوشی اور اعتماد محسوس کرتے ہوئے اس اقدام کی تعریف کی۔ اس سے پہلے اس قسم کی بریفنگ کا اہتمام دفتر خارجہ میں ہی کیا جاتا تھا۔ جس میں بعض خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شرکت کرتے تھے تاہم اس بار سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، ایڈیشنل سیکرٹری سید ابن عباس اور ڈی جی برائے جنوبی ایشیا رفعت مسعود خود کشمیر ہاﺅس گئے۔ بریفنگ کے دوران شرکاءکی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے بعض منفرد نکات بھی اٹھائے گئے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے راہنماءیاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان کو بیان کرنا مشکل ہے نوجوانوں کی کثیر تعداد جیلوں میں قید ہے اور خواتین پر بھی ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی بے حرمتی اور کرفیو کے دوران بیمار و حاملہ خواتین اور ان بچوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا جن کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے مشال ملک اور دیگر کشمیری نمائیندوں کے وفد کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان کشمیر کے مس¾لہ پر بنیادی ایشو کے طور پر واضح اور دوٹوک موقف رکھتاہے اور ماضی کی طرح آئیندہ بھی کشمیری بھائیوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔