شفاف انتخابات کا وعدہ پورا کر دیا، نگران حکومت آخری لمحوں میں ہے: وزیراطلاعات

 اسلام آباد (آئی این پی+ آن لائن) نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے اپنے فرائض پورے کر دیئے۔ نئے وزیر اعظم 5 جون کو حلف اٹھائیں گے، بعض قوتیں الیکشن کے خلاف تھیں موبائل فون بند کئے بغیر الیکشن کرائے، پولنگ ڈے پر کوئی بڑی دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہوئی، سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے بجلی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، خفیہ فنڈ کی لسٹ میں صحافیوں کے نام میری مشاورت سے شامل نہیں ہوئے کسی بھی وزارت کے پاس سیکرٹ فنڈ نہیں ہونے چاہئیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس یکم جون کو طلب کیا جا رہا ہے۔ قوم نے جو ذمہ داریاں ہمیں سونپی ہیں ہم نے اسے پوری دیانت داری سے پورا کیا۔ دوران ڈیوٹی متعدد صحافی شہید ہو چکے ہیں صحافیوں کی انشورنس کا معاملہ حل ہو نا چاہیے، ایک کروڑ روپے کا بیورلنٹ فنڈ مختص کیا گیا ہے، پی بی اے سے بھی کہیں گے کہ اس فنڈ میں پیسے دیں۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ لسٹ میں میرا بھی نام ہے مجھ سے کوئی مشاورت نہیں ہو ئی ہے اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جو نام دیئے گئے وہ رجسٹر کے مطابق من و عن تھے ان میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے تھے، خفیہ فنڈ ہنگامی مقاصد اور ریلیف کے لیے ہوتا ہے، رجسٹر اپنی یاد داشت کے لیے رکھا گیا تھا، وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزارت اطلاعات سمیت کسی وزارت کے پاس سیکرٹ فنڈ نہیں ہونا چاہیے۔ عارف نظامی نے کہا ہے انتخابی عمل پردھاندلیوں کے الزامات کے باوجود انتخابات شفاف اور آزادانہ ہوئے، دھاندلیوں کی شکایات کی شرح بہت کم تھی۔ نگران حکومت اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہشمند نہیں ہے۔ نگران حکومت نے شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے کا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے اب نگران حکومت آخری لمحوں میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم نے یکم جون قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی ہے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا صدر کی صوابدید ہے۔ یکم جون کو نو منتخب ارکان اسمبلی بطور قومی اسمبلی حلف لینگے اور حاضری کے رجسٹر پر دستخط کرینگے ۔ یہ ایک لمبا پراسیس ہوگا اس سے اگلے روز اتوار ہے پیر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا عمل شروع ہوگا اس کے بعد لیڈر آف دی ہاﺅس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کا معاملہ طے ہوگا۔ نگران حکومت نے مجموعی طور پر شفاف انتخابات کرائے تاہم انتخابی عمل میں دھاندلی کے حوالے سے بھی شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن ان کی شرح بہت تھوڑی ہے اس طرح ہم ان انتخابات کو ملکی تاریخ میں شفاف ترین کہہ سکتے ہیں۔ پہلی بار ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں اے پی این ایس کے اشتہاروں کے نرخوںمیں اضافہ نہیں کیا۔ وزارت اطلاعات کے سیکرٹ فنڈ کی تفصیلات اور جن صحافیوں کو امداد فراہم کی گئی اس کی فہرستیں بھی ان سے پوچھ کر تیار کی گئی نہ ہی ان سے اس کی منظوری لی گئی بلکہ ان فہرستوں میں ان کا اپنا نام بھی شامل ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اس لئے تاخیر سے طلب کیا گیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جیتنے والے ارکان قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن کے اجراءمیں تاخیر ہوئی ہے۔ نگران حکومت نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ سے وزارت پانی و بجلی کیلئے بیس ارب روپے کی فنڈز کی منظوری دلائی گئی جس میں سے دو ارب روپے جاری کردیئے گئے ہیں۔ سات ارب روپے مزید ایک ہفتے میں جاری کردیئے جائینگے نگران حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر منی بجٹ لانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں عارف نظامی کا کہنا تھا کہ نگران وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کیلئے واشنگٹن گئے اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں نگران حکومت نے آنے والی حکومت کی سہولت کیلئے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے اور بجلی کی ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں سمری صدر کو منظوری کیلئے بھیج دی تاہم صدر نے منظور نہیں کی اور کہا کہ اس کا فیصلہ آئندہ آنے والی حکومت کو کرنے دیا جائے۔
عارف نظامی