واپڈا میں ایک برس کے دوران 83 کروڑ کی بدعنوانی پر پی اے سی برہم

اسلام آباد (آن لائن) پی اے سی نے واپڈا کی مالی سال 2007-08ء میں 83 کروڑ سے زائد مالی بدعنوانیوں پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ لوٹی ہوئی رقم فوری ریکور کی جائے۔ سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگہ نے کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے سمارٹ میٹر لگائے جائینگے اور اس مقصد کیلئے امریکہ نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس منصوبہ کا پی سی ون بن چکا ہے اور جون، جولائی سے ملک بھر میں پرانے میٹروں کی جگہ نئے سمارٹ میٹر تنصیب کئے جائینگے۔ پی اے سی میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بجلی چوری سب سے زیادہ پشاور الیکٹرک سٹی اور حیسکو میں ہوئی ہے۔ حیسکو میں گرمیوں میں لائن لاسز 20 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ ذیلی کمیٹی اجلاس میں آڈٹ پیرا اعتراضات پر بحث کی گئی پی اے سی نے 14پیروں کو غیر موثر قرار دیا۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ ہر سال کروڑوں روپے کا بجلی سامان چوری ہوتا ہے جو آج تک برآمد نہیں ہوسکا۔ بعض کمپنیاں اپنا خسارہ کم کرنے کیلئے صارفین کے بلوں میں اضافی رقم اور یونٹس ڈالتی ہیں۔ پی اے سی نے فیسکو میں زائد بلنگ پر اظہار برہمی کیا۔ پی اے سی نے کہا کہ واپڈا کا ترسیلی نظام پرانا ہے اسلئے خسارہ زیرو ہونا ناممکن ہے۔ پی اے سی نے واپڈا ملازمین اور افسروں کو مفت بجلی فراہمی پر اظہار ناراضی کیا ہے اور اس پالیسی کو بدلنے پر زور دیا ہے۔ روحیل اصغر نے کہا کہ واپڈا افسروں کے اے سی دن رات چلتے ہیں اور نقصان صارفین ادا کرتے ہیں۔ آڈٹ حکام نے واپڈا کمپنیوں میں سات کروڑ روپے کی صنعتوں کے صارفین سے ریکوری کی نشاندہی کی ہے پی اے سی نے بتایا کہ حیسکو میں لائن لاسز 23فیصد ہیں نیپرا نے 22 فیصد کی اجازت دے رکھی ہے۔