قائمہ کمیٹی نے ارکان قومی اسمبلی کو سالانہ20 فضائی بزنس ٹکٹ کی بجائے مساوی رقم دینے کی منظوری دیدی

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے ارکان قومی اسمبلی کو مفت سفری اخراجات کیلئے سالانہ 20 فضائی بزنس کلاس ٹکٹ دینے کی بجائے نقد مساوی رقم دینے کی تجویز کی منظوری دیدی ہے۔قائمہ کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ای آفس سسٹم کیلئے پی ٹی سی ایل سے ڈیٹا ہائوس سسٹم بنانے کا معاہدہ منسوخ کر کے این ٹی سی کے ذریعے اپنا ڈیٹا ہائوس سنٹر بنائے‘ چیئرمین قائمہ کمیٹی میاں عبدالمنان نے کہا کہ ہم نے پی ٹی سی ایل کو اتصالات کو فروخت کر دیا اب اسے ڈیٹا ہائوس سنٹر بنانے کی اجازت دینا سیکیورٹی رسک ہو گا ‘ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ہمارے ڈیٹا کو سائبر پروٹیکشن حاصل نہیں ‘ تمام سافٹ ویئر ڈومین یو ایس ایڈ کے ساتھ منسلک ہیں ‘ قائمہ کمیٹی نے آئندہ مالی سال کیلئے وزارت پارلیمانی امور کے 4 کروڑ 20 لاکھ مالیت کے آئی انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن اور ہیومن ریسورس منصوبہ کے بعض تحفظات کے ساتھ منظوری دیدی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین میاں عبدالمنان کی زیر صدارت ہوا جس میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الائونسز کے ایکٹ 1974ء میں ترامیم کے بل 2015ء کا جائزہ لیا گیا۔ ارکان کی اکثریت کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی رول نمبر 10 کے تحت چیئرمین سینٹ سے مشاورت کے ذریعے مطلوبہ ترامیم کر سکتے ہیں تاہم قائمہ کمیٹی نے مذکورہ ترمیم کے ذریعے ارکان قومی اسمبلی کو مفت سفری سہولت کی فراہمی کیلئے سالانہ پی آئی اے کے 20 بزنس کلاس کے ٹکٹوں اور تین لاکھ روپے کے ووچرز کے مساوی نقد رقم ادا کرنے کی منظوری دیدی جس کے تحت ایم این ایز کو ہر تین ماہ کے بعد نقد ادائیگی کی جائے گی جبکہ ایسے مقامی 29 ایم این ایز ب ھی شامل ہوں گے جنہیں ابھی پی آئی اے کی ٹکٹ اور ووچر نہیں دئیے جا رہے۔ سیکرٹری وزارت پارلیمانی اور دیگر حکام نے 2015-16ء کیلئے تجویز کئے گئے ترقیاتی منصوبے پر بریفنگ دی۔ جس کے مطابق مذکورہ منصوبے کے تحت ای آفس فائلنگ پراجیکٹ کے تحت مذاکرات پارلیمانی امور اپنے آئی ٹی سسٹم کو اپ گریڈ کرے گی اور متعلقہ سٹاف کو آئی ٹی کی تربیت دی جائے گی۔ مذکورہ منصوبے پر 4 کروڑ 19 لاکھ 56 ہزار روپے لاگت آئے گی۔ سیکرٹری پارلیمانی امور نے کہا کہ ای آفس فائلنگ پراجیکٹ کے تحت وزارت کا زیادہ سے زیادہ کام کمپیوٹر نیٹ ورک پر منتقل کیا جائے گا۔ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ای آفس فائلنگ پروجیکٹ کیلئے وزارت آئی ٹی نے پی ٹی سی ایل کے ساتھ ڈیٹا ہائوسنگ سنٹر کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت پی ٹی سی ایل 15 ماہ تک مفت ڈیٹا ہائوسنگ سنٹر کی سہولت فراہم کرے گا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی میاں عبدالمنان نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی سی ایل کو غیر ملکی کمپنی اتصالات کے پاس فروخت کر دیا ہے ۔ اپنے ڈیٹا کی حفاظت کیسے کریں گے۔ پی ٹی سی ایل کو ڈیٹا ہائوسنگ سنٹر بنانے کا کنٹریکٹ دینا سیکیورٹی رسک ہو گا۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ہمارے ڈیٹا کو اس وقت سائبر پروٹیکشن حاصل نہیں۔ارکان ڈاکٹر شاہدہ رحمانی ‘ عارفہ خالد پرویز اور ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی سی ایل میں ای آفس فائلنگ پراجیکٹ کا ڈیٹا ہائوسنگ سنٹر نہ بنایا جائے۔