سینٹ: اقتصادی راہداری روٹ کی ممکنہ تبدیلی کیخلاف اپوزیشن کا واک آئوٹ

سینٹ: اقتصادی راہداری روٹ کی ممکنہ تبدیلی کیخلاف اپوزیشن کا واک آئوٹ

اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) حکومت کی جانب سے پاک چائنہ اقتصادی راہداری روٹ کی ممکنہ تبدیلی کیخلاف اے این پی کی کال پر اپوزیشن نے ایوان بالا کے اجلاس سے واک آئوٹ کر دیا۔ اے این پی کے ساتھ پیپلز پارٹی، ق لیگ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے ارکان بھی واک آئوٹ کرنیوالوں میں شامل تھے۔ گزشتہ روز چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری کی زیرصدارت ایوان بالا کا اجلاس شروع ہوا تو موقعہ سوالات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی رہداری کے روٹ کو تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے جس پر ان کی پارٹی کو تحفظات ہیں مذکورہ منصوبے سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنا ہے اگر روٹ تبدیل کیا گیا تو ملک کی آبادی کا بڑا تناسب اس معاشی سرگرمی سے استفادہ نہیں کر سکے گا۔ یہ راہداری 2013ء میں بنائے گئے پرانے روٹ کے مطابق بنائی جائے۔ نئے روٹ پر چھوٹے صوبوں میں شدید احساس محرومی پیدا ہو گا جس کے بعد اپوزیشن جماعتیں ایوان بالا سے واک آئوٹ کر گئیں جس پر چیئرمین سینٹ نے اجلاس پیر کی شام تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ دریں اثناء سینٹ اجلاس میں جسٹس (ر) بھگوان داس کی وفات پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کو ملنے والی مراعات اور پنشن سے متعلق ایوان کو جواب نہ ملنے پر چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکومت کو تنبیہ کی کہ وہ اس حوالے سے تمام حقائق پارلیمنٹ میں پیش کرے جبکہ منگل کے روز وفاقی وزیر قانون پرویز رشید کو ایوان میں طلب کرلیا۔ وقفہ سوالات میں پی پی پی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس سے متعلق دو سال سے ایوان میں سوال کررہا ہوں مگر جواب نہیں مل رہا جس پر وفاقی وزیر قانون پرویز رشید نے بتایا کہ ہمارے پاس یہ معلومات ہیں نہ ہی انصاف و انسانی حقوق ڈویژن میں دستیاب ہیں۔ سپریم کورٹ چھ مرتبہ مکتوب ارسال کرچکے ہیں تاہم ہمیں ابھی تک جواب کا انتظار ہے جس پر چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ یہ معلومات ایوان میں اب تک کیوں فراہم نہیں کی جارہیں۔ وزیر قانون پرویز رشید نے بتایا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری 6000 سی سی بلٹ پروف گاڑی استعمال کررہے ہیں اور انہیں سکیورٹی نقطہ نظر کے تحت یہ گاڑی دی گئی ہے۔ سابق چیف جسٹس کو ماہانہ بنیادوں پر 3 ہزار فری لوکل کالز‘ 2 ہزار یونٹ الیکٹریسٹی یونٹ‘ 25 ایچ ایم سوئی گیس اور فری پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس کی گاڑی کیلئے 300 لٹر پٹرول بھی حکومت انہیں ماہانہ بنیادوں پر دے رہی ہے۔ پرویز رشید نے بتایا کہ چیف جسٹس کو ان کی خدمات کے عوض متعدد دیگر مراعات بھی دی جا رہی ہیں جس پر سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ 1985ء سے اب تک ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس صاحبان کے متعلق مسلسل سوالات کررہا ہوں مگر مجھے میرے سوالوں کا جواب نہیں مل رہا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے وزیر قانون پرویز رشید کی جگہ ایوان میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ جلد تمام تفصیلات ایوان میں پیش کریں گے جس پر چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو چیزیں آپ ہمیں بتا رہے ہیں وہ ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ متعلقہ وزیر ایوان میں میں آکر اس کی وضاحت کریں۔ اس موقع پر سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ اس انفارمیشن کو پارلیمنٹ اور عوام تک بھی پہنچایا جائے۔وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ حکومت نے نیپرا کی طرف سے مالی سال 2013-14ء کیلئے ٹیرف مقرر کرنے کے اجراء کے بعد یکم نومبر 2014ء کو ٹیرف کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے اور صارفین سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ سابق انڈس واٹر کمشنر کے خلاف سید جماعت علی شاہ کے خلاف انکوائری کمیٹی فوجداری مقدمہ شروع نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ 10 اکتوبر 2012ء کو جمع کرائی جس میں کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کی کہ سید جماعت علی شاہ نے اپنے فرائض مناسب انداز میں سر انجام دیئے، قومی مفاد کو ہونے والے کسی نقصان کا اس سے تعلق نہیں تھا۔ سینیٹر صغریٰ امام کے سوال پر عابد شیر علی نے بتایا کہ بھارتی حکومت دریائے چناپ اور اس سے نکلنے والے دریائوں پر رن آف ریور ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس مسلسل تعمیر کر رہی ہے، پاکستان کے تحفظات کا ازالہ نہ کیا گیا تو عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا جائیگا، پاکستان میں صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ بعدازاں چیئرمین سینٹ جماعت علی شاہ پر عائد الزامات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سوال موخر کردیا ۔سینیٹر احمدحسن کے سوال پر وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے بتایا کہ مالا کنڈ ڈویژن میں 220/132 کے وی کے سب سٹیشن کیلئے 54 کروڑ روپے کے پی کے حکومت کے پاس جمع کرا دیئے ہیں، یہ رقم صوبے کے پاس پڑی ہے۔ علاوہ ازیں ارکان سینٹ نے عام انتخابات 2013ء کے بیلٹ پیپرز کی سرکاری پرنٹنگ پریس سے چھپائی کے عمل کو مشکوک قرار دیا ہے تاہم وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے سرکاری پرنٹنگ پریس کی جانب بیلٹ پیپرز کے کام کو سبلٹ کرنے کے الزام کی سختی سے تردید کی ۔ وزیر مملکت نے کہاکہ 2013ء میں عام انتخابات کیلئے 18 کروڑ 17 لاکھ 43 ہزار بیلٹ پیپرز چھاپے گئے اور اردو بازار سے کوئی بیلٹ پیپر نہیں چھپوایا گئے۔ ایوان بالا کے الوداعی اجلاس میں متعدد مجالس قائمہ کی رپورٹس پیش کی گئیں  جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹر احمد حسن نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی انسداد اور زنا بالجبر قوانین (فوجداری قوانینی ترمیمی) بل 2014ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی نجکاری کمشن سنیٹر بیگم نسرین جلیل کی طرف سے سینیٹر نزہت صادق نے نجکاری کمشن آرڈیننس 2000ء میں مزید ترمیم کا بل نجی کمشن (ترمیمی) بل 2013ء کی رپورٹ جبکہ سنیٹر ادریس صافی کی جانب سے سنیٹرزاہد خان نے نجکاری کمشن آرڈیننس 2000ء میں مزید ترمیم کا بل نجی کمشن (ترمیمی) بل 2013ء  قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کی طرف سے موبائل سیلولر لائسنس/ سپیکٹرم تھری جی، فور جی، ایل ٹی ای کی نیلامی سے متعلق نکتہ اعتراض پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔آئی این پی کے مطابق پرویز رشید نے سینٹ کو بتایا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کسی استحقاق کے بغیر بلٹ پروف گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس قانون اور اپنے استحقاق کیخلاف 6,000 سی سی بلٹ پروف گاڑی استعمال کر رہے ہیں جس کیلئے اب تک انہیں لاکھوں روپے کا  4689 لیٹر پٹرول جاری کیا جاچکا ہے۔ تحریری جواب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ 1985ء سے ریٹائرڈ ہونیوالے چیف جسٹس صاحبان کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات کا ریکارڈ غائب ہے۔