حکومت پسپا ہو کر تسلیم کرچکی غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت ہے: سپریم کورٹ

حکومت پسپا ہو کر تسلیم کرچکی غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) اسلام آباد میں سیکورٹی کے نام پر غیرقانونی رکاوٹیں اور رہائشی پراپرٹی کے کمرشل استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیاکیا سیکورٹی کے نام پر بیرون ملک ہمارے سفارتخانوں کو رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سڑک بلاک کرنے کی اجازت ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں موجود غیر ملکی سفارتخانوں سے کہا جائے کہ وہ ڈپلو میٹک انکلیو میں منتقل ہوجائیں، افسوس کی بات ہے کہ حکومت پسپا ہوکر تسلیم کرچکی ہے کہ سیکورٹی کے نام پر غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت ہے، مقدمہ کی سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔ سی ڈی اے کے وکیل نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیاہے کہ اب تک سڑکوں پر قائم 62 رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں صرف دس باقی ہیں جبکہ 113 وہ رکاوٹیں ہیں جو سیکورٹی کے حوالے سے ضروری ہیں، سی ڈی اے کے عملے نے دوبارہ سروے کرنے کے بعد تصدیق کی ہے کہ 60 رکاوٹیں واقعی ہٹا دی گئی ہیں، جبکہ رہائشی عمارتوں کے کمرشل استعمال کے حوالے سے سی ڈی اے نے ڈپٹی کمشنر کو 1015 شکایات بھیجی گئیں جن پرکارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرنے 633 مالکان کو جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے سفارتخانوں کی رکاوٹوں کے حوالے سے استفسار کیا اور کہا کہ آپکی رپورٹ کے مطابق سفارتخانوں کو پاکستان کی موجودہ صورتحال میں سیکورٹی کا مسئلہ ہے، اسکا مطلب تویہ ہوا کہ حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ سیکورٹی کی خراب صورتحال کے باعث سفارتخانے ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں تو پھر آپ بھی پیرس یا امریکہ جاکرکہدیں کہ سیکورٹی کی صورتحال کے باعث ہمیں وہاں بلاکوں کی چار دیواری بنانے دی جائے سی ڈی اے وکیل نے کہاکہ یہ ممکن نہیں وہ کبھی اس کی اجازت نہیں دیتے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ تو پھر یہاں کے تمام سفارتخانوں سے کہاجائے کہ وہ ڈپلو میٹک انکلیو میں منتقل ہوجائیں کیا ابتر سیکورٹی صورتحال میں سڑکیں بلاک کرنا درست اقدام ہے؟ جسٹس جواد نے کہا کہ رکاوٹیں ہٹانے کے معاملے پر بھی تفریق سے کام لیا جا رہا ہے، عام شہریوں کے حقوق کا خیال نہیں جارہا۔