افغان تنازعہ کے سبھی فریق بات چیت کیلئے بالکل تیار ہیں: بی بی سی

افغان تنازعہ کے سبھی فریق بات چیت کیلئے بالکل تیار ہیں: بی بی سی

اسلام آباد (نیٹ نیوز + بی بی سی) قریباً ایک دہائی سے زیادہ کی نفرت اور بدگمانی کے بعد اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ افغان تنازعہ کے سبھی فریقین بات چیت کیلئے بالکل تیار ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ماضی میں طالبان نے یہ کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا تھا کہ وہ صرف امریکہ سے بات چیت کریں گے کیونکہ ’امریکہ نے ہی افغانستان پر قبضہ کیا ہے اصل طاقت وہی ہے۔‘ گذشتہ کچھ دنوں میں اس طرح کی پیشرفت ہوئی ہیں جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب برسوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستانی فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت پر رضامندی کے اشارے دیے ہیں۔ جنوری میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قطر میں طالبان کے دفتر سے ایک وفد نیگذشتہ برس نومبر میں چینی حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔ نومبر 2013ء میں فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے خطے کو درپیش سیکورٹی سے متعلق چیلنجیز کا سامنا کرنے کیلئے کابل، واشنگٹن، لندن اور بیجنگ کے ساتھ سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے اس سمت مثبت اشارے تب ملے جب اس نے شدت پسندی کیخلاف جنگ کیلئے پاکستان کو دیے جانے والے ایک ارب ڈالر کے فنڈ کی مدت ایک سال اور بڑھا دی۔ حکومت کی جانب سے ’ہر قسم‘ کے شدت پسندوں کے خاتمے کے اس عہد کو اس وقت جھٹکا لگا جب شدت پسندوں نے دسمبر میں پشاور کے فوجی سکول پر حملہ کیا۔ دوسری جانب افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے رشتوں میں ڈرامائی طور پر مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی افغان حکومت اور پاکستان فوج کے رشتوں میں بہتری کا راستہ کھلا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنرل راحیل شریف نے صدر اشرف غنی کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ طالبان کو بات چیت کیلئے رضامند کرنے کے لیے اثر ورسوخ استعمال کریں گے۔ بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان ایسا کر سکتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اگر طالبان کو پاکستان میں پناہ نہ ملے تو وہ افغانستان میں لڑائی جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ پاکستان کا دوست سمجھے جانے والے ملک چین نے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ چین نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور چاہتا ہے کہ یہاں اسکا کاروبار محفوظ رہے وہ لمبے عرصے سے کہتا رہا کہ پاکستان سنکیانگ کے شدت پسندوں کو پناہ دینا بند کرے۔ افغان تنازعہ سے منسلک سبھی فریقین باہمی سمجھوتے سے متعلق سوچ رہے ہوں گے لیکن ایسا معاہدہ جس پر سبھی اتفاق کریں اگر ناممکن نہ سہی مگر ابھی مشکل ضرور لگتا ہے۔