پیپلز پارٹی سر توڑ کوششوں کے باوجود پنجاب میں مطلوبہ ارکان پورے نہ کرسکی

اسلام آباد (سجاد ترین/ خبرنگار خصوصی) پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت حکومت سازی کے لئے مطلوبہ ممبران کی تعداد پوری کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں تاہم 72گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی جبکہ ایک مرکزی مشیر نے قیادت کو یقین دلایا تھا کہ میاں شہباز شریف کی نااہلی کی صورت میں پیپلز پارٹی کی پنجاب میں 12گھنٹے کے اندر حکومت سازی مکمل ہو جائے گی۔ جبکہ ایسا نہ ہو سکا تو یہ مرکز کو صوبے میں گورنر راج کا اعلان کرنا پڑا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی پنجاب سے تعلق رکھنے والے راجہ ریاض اور قاسم ضیاء نے اپنے لئے الگ الگ مہم شروع کر رکھی ہے اور پارٹی اجلاسوں میں خود کو آئندہ کا وزیراعلیٰ ظاہر کر رہے ہیں جبکہ 2 امیدوار زیرِزمین اپنے لئے کام کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے پاس مکمل ہوم ورک نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ روز ایوان صدر میں پیپلز پارٹی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پنجاب میں حکومت قائم ہو جائے گی۔ صدر نے تو اپنی جانب سے بھرپور حوصلہ دے دیا ہے مگر حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ ایوانِ صدر نے مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے درمیان گزشتہ روز اچانک رابطہ ہونے پر بھی کسی فکرمندی کا اظہار نہیں کیا۔ ایوانِ صدر سے باہر آنے والے ارکان پنجاب اسمبلی انتہائی خوش اور پرامید نظر آ رہے تھے۔ ایک اہم رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ پیپلز پارٹی کا ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے اور پنجاب کی صورت حال چند روز میں سب کو نظر آ جائے گی اور پیپلز پارٹی کا ہی پنجاب میں وزیراعلیٰ ہو گا کیونکہ ممبران کی اکثریت ہمدرد ہے۔