شریف برادران کی نااہلی کا فیصلہ…پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ آخری راستہ تھا : گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + ریڈیو مانیٹرنگ + ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے کہا ہے کہ شریف برادران کی نااہلی کا فیصلہ قابل افسوس اور بدقسمتی پر مبنی مگر قانون کے مطابق ہے ، صدر زرداری کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کی طرف سے غیر شائستہ زبان کا استعمال قابل مذمت ہے ، پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ آخری راستہ تھا، وفاقی کابینہ نے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کر دی۔ کابینہ کا خصوصی اجلاس سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ وہ میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر کابینہ کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں‘ وفاقی کابینہ نے کہا کہ پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ آخری راستہ تھا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب میں پیدا ہونے والے آئینی اور انتظامی بحران کے باعث گورنر راج کے نفاذ کے احکامات جاری کئے گئے، وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر راولپنڈی میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی یادگار کو مسلم لیگ (ن) کے چند کارکنوںکی جانب سے نقصان پہنچانے مختلف مقامات پر سرکاری املاک جلانے اور نقصان پہنچانے کی بھی مذمت کی اجلاس میں تمام سیاسی کارکنوں پر زور دیا گیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں املاک کو جلانے، نقصان پہنچانے اور لوٹ مار سے گریز کریں، کابینہ نے کہا پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری اصولوں پر یقین رکھتی ہے وہ نہیں چاہتی کہ اس کے کارکن کسی قسم کے تشدد میں ملوث ہوں، کابینہ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں اور کارکنوں کی جانب سے صدر آصف علی زرداری کے خلاف غیر شائستہ زبان کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر وفاق کی علامت ہیں ان کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں کئی وزراء نے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ پر تنقید بھی کی۔ وزیراعظم نے تنقید کو بہت غور سے سنا اور وزراء کو یقین دلایا وہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وزراء کی اکثریت نے گورنر راج پر تحفظات کا اظہار کیا۔ دریں اثنا وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر آصف زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 4 بجے طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ کی اکثریت نے پنجاب حکومت کے خاتمے، شریف برادران کو نااہل قرار دیئے جانے کے عدالتی فیصلے، صوبہ میں گورنر راج کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر بحث کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر طلب کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ شریف برادران کی نااہلی اور پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کی سیاسی صورتحال کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں ان اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا جس سے سیاسی صورتحال کو معمول پر لایا جا سکے۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھر پور ہنگامہ آرائی کا بھی امکان ہے لیگی ارکان اجلاس میں پنجاب میں لگائے گئے گورنر راج نافذ کرنے اور پنجاب حکومت کے خاتمے پر حکومتی اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنائینگے جبکہ حکومتی ارکان کی جانب سے صدر کی جانب سے گورنر راج کے فیصلے کی توثیق کی کوششں کی جائے گی ۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریکوزیشن جمع کرا دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے 92 ارکان نے ریکوزیشن پر دستخط کئے۔ مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ آفتاب شیخ نے قومی اسمبلی کے سیکرٹری کے پاس ریکوزیشن جمع کرائی۔