مجرم کو سزا ملنے سے ہی حالات سدھریں گے‘ کیا پولیس کا کام صرف ڈکیتیاں مارنا رہ گیا ہے : چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار محمد چودھری نے ملک تبارک حسین المعروف ملک باری کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے کراچی لے جانے کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ جرم کرنے والے کو جرم کے مطابق سزا ملے گی تب ہی ملکی حالات سدھریں گے۔ پولیس کا کام کیا صرف ڈکیتیاں مارنا رہ گیا ہے۔ عدالت نے ملک تبارک کو کراچی لے جانے کے معاملے میں صرف ایک سب انسپکٹر کو معطل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کراچی پولیس کو حکم دیا ہے کہ غیرجانبدارانہ تفتیش کر کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد انتظامیہ سے قبضہ میں لی گئی گاڑیوں کی مقدمہ وار تفصیلات طلب کر لی ہیں اور مزید سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نے وفاقی سیکرٹریوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیخلاف حکم امتناعی جاری کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس میں کہا کہ پوری قوم پلاٹوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ عدالت عظمٰی نے سماعت 4 جنوری تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کی جانب سے گریڈ 21 اور 22 میں کی گئی 51 تقرریوں کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت 4 جنوری تک ملتوی کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ملک تبارک حسین کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے کراچی لے جانے کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ایس ایس پی تفتیشی کراچی نیاز کھوسو نے بتایا کہ ملک تبارک حسین کیخلاف تھانہ سہراب گوٹھ میں درج مقدمہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ مقدمہ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ مقدمہ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر انیل احمد خشک کو معطل کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ایس آئی کو معطل کیا ہے وہ تو بہت چھوٹی مچھلی ہے۔ ایک ٹھیک ٹھاک بندے کو اٹھا کر کراچی لے جایا جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں اس میں قصوروار صرف ایک سب انسپکٹر ہے اور آپ اس کو کافی سمجھ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ملک تبارک کے وکیل سردار عصمت اللہ نے بتایا کہ ان کے موکل سے 22 لاکھ روپے کی رولیکس گھڑی‘ لائسنس یافتہ بندوق لے لی گئی جبکہ ان کے بیٹے کو حراساں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو سیدھی سیدھی ڈکیتی ہے۔ اس کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے ایس ایس پی طاہر عالم سے استفسار کیا کہ درخواست پر کیا کارروائی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درخواست 23 نومبر کو ملی ہے مزید کارروائی کر رہے ہیں۔ ایس ایس پی نے کہا کہ معاملے میں اسلام آباد پولیس کے تمام سینئر پولیس افسران کو لپیٹا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غلط کام کرو گے تو یہی ہوگا۔ چیف جسٹس نے ایس ایس پی کراچی سے کہا کہ سارے معاملے کی تفتیش کروا کر کوئی بڑا بھی پھنستا ہے تو لحاظ مت کرو۔ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شہری کو زبردستی اس کی ملکیت سے محروم کیا جائے۔ علاوہ ازیں تمام صوبوں اور اسلام آباد انتظامیہ سے قبضے میں لی گئی گاڑیوں کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرحد نے بتایا کہ عدالت کے گذشتہ روز کے احکامات کی روشنی میں رپورٹ منگوائی گئی ہے۔ تاہم مکمل رپورٹ وقت کی کمی کے باعث مرتب نہیں ہو سکی۔ سیشن جج کوہستان نے جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق 6 گاڑیاں سول ججوں کے قبضے میں ہیں۔ اس پر جسٹس طارق پرویز نے کہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ اطلاع درست ہے کہ گاڑیاں اپنے خانساموں تک کو دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 51 افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دینے اور بعض کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ چودھری نذیر احمد کے وکیل ڈاکٹر اسلم خاکی نے کہا کہ مقدمہ کی جلد سماعت کی جائے کیونکہ بہت سے متاثرہ افسران ریٹائر ہونے والے ہیں جبکہ ترقی پانے والے افسران کو پلاٹ الاٹ کئے جارہے ہیں۔ اس الاٹمنٹ کیخلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ تاہم چیف جسٹس نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ پلاٹوں کا معاملہ چھوڑیں یہاں پوری قوم ہی پلاٹوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔