”مارگلہ پر کوئی تعمیرات نہ کی جائے“ سپریم کورٹ کا نیشنل پارک کی اصل حیثیت برقرار رکھنے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے مارگلہ ٹنل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیشنل پارک کو اصل حیثیت میں برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کو علاقے میں جو ترقیاتی کام کرنا ہے کرے لیکن قومی اثاثے کو خراب نہ کرے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مارگلہ پر کوئی بھی تعمیرات نہ کی جائے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مارگلہ ہلز ٹنل ازخود نوٹس کیس نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ مارگلہ نیشنل پارک کے سروے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے اور چیئرمین سی ڈی اے اور این ایچ اے 2 ہفتوں میں رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرائیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ منصوبے کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نیشنل پارک میں کرشنگ ہو نہ کوئی سرنگ تعمیر کی جائے تاکہ مارگلہ نیشنل پارک کو اصل حیثیت میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں مارگلہ کی پہاڑیوں کو تحفظ دینے کا آرڈیننس اور نیشنل پارک کی حیثیت برقرار رکھنے سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔ این ایچ اے نے عدالت میں جواب جمع کرایا کہ مارگلہ پہاڑیوں میں سرنگ بنانے کا کوئی ٹاسک نہیں دیا گیا۔ ایسا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جائیگا جس سے نیشنل پارک کی حیثیت متاثر ہو۔