پلوشہ قتل کیس: پولیس افسروں کیخلاف ایف آئی آر میں قابل ضمانت دفعات حذف کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ نے پلوشہ قتل کیس کی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پی کے کو ہدایت کی ہے کہ وقوعہ کی ایف آئی آر پشاور میں درج نہ کرنے اور شواہد کو مسخ کرنے میں ملوث آئی جی کے پی کے سابق آئی جی اسلام آباد سمیت 12 افسران کیخلاف پشاور میں درج کردہ نئی ایف آئی آر میں سے قابل ضمانت دفعات حذف کی جائیں تاکہ ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے لطیف یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے مطابق سابق آئی جی کے پی کے سابق آئی جی اسلام آباد اور کے پی کے پولیس کے 12 افسران کیخلاف پشاور میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کےلئے قابل ضمانت دفعات ایف آئی آر میں شامل کی ہوں گی۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے تحت کسی سے رعایت نہیں کی جائیگی۔ عدالت نے قابل ضمانت دفعات ہونے کی صورت میں ایسی دفعات حذف کرنے اور آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔