قائمہ کمیٹی کی شیخ زائد ہسپتال سمیت طبی ادارے دوبارہ وفاق کے کنٹرول میں لانے کی سفارش

اسلام آباد (این این آئی + آئی این پی) قائمہ کمیٹی برائے سینیٹ نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس سینیٹر ظفر علی شاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں شیخ زائد ہسپتال، جناح پوسٹ میڈیکل کمپلیکس، این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ سمیت دیگر معاملات پر غور و خوض کیا گیا۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈیوولیشن پلان ، 18 ویں ترمیم کے ذریعے وفاق کے ان اداروں کو صوبوں کے حوالے کرنے سے مریضوں عملہ اور ڈاکٹرز نہ صرف سخت مشکلات کا شکار ہیں بلکہ یہ تینوں قومی ادارے بھی تنزلی کا شکار ہےں۔ ماہر ڈاکٹرز، سرجنز پروفیسرز بیرون ملک چلے گئے، خصوصی طور پر بلوچستان فاٹا خیبر پی کے، کے طلبہ کو داخلوں اور تربیت پر پابندی کا سامنا ہے۔ وزیر مملکت نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افصل تارڑ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ مالاکنڈ میں ڈینگی وائرس کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے بھرپور رابطے میں ہے اور علاقے میں دو میڈیکل ٹیسٹنگ موبائل یونٹس فراہم کردئیے گئے ہیں اور ڈبلیو ایچ او کے علاوہ تمام بین الاقوامی امدادی اداروں سے مدد کی درخواست کی گئی ہے، ڈینگی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومتیں یکجا ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ بچوں کے امراض کے سب سے بڑے ادارے این آئی سی ایچ اور بچوں کے دل کے علاج اور دوسری سہولیات فراہم کرنیوالے این آئی سی وی ڈی اور شیخ زائد ہسپتال اور جناح پوسٹ کمپلیکس میں سینکڑوں ڈاکٹروں کی تربیت میں مشکلات پیش آرہی ہےں۔ حکومت سے پارلیمان کے ذریعے سفارش کی جائے کہ صحت کے ان اداروں کومشترکہ مفادات کونسل سے منظوری حاصل کر کے وفاق کو واپس کر دیا جائے۔کمیٹی کے تمام ممبران نے اس تجویز کی منظوری دی۔ اجلاس میں سینیٹر کریم ایم خواجہ، مسز فرحت عباس، الماس پروین، ثریا امیر الدین، عبدالحسیب خان، رفیق رجوانہ، ہمداس، نثار محمد خان کے علاوہ جناح پوسٹ ہسپتال شیخ زائد ہسپتال این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ کے علاوہ وزارت کے اعلی عہدیداران نے شرکت کی۔ ادھر سینٹ کی ذیلی کمیٹی کیڈ کے اجلاس میں کنوینئر سینیٹر کامل علی آغا نے پمز ہسپتال میں استعمال شدہ فضلہ کے جلانے کیلئے انسیلیٹر کی تنصیب، خرابی اور نظرثانی شدہ بجٹ کے حصول کیلئے پلاننگ کمشن اور وزارت ماحولیات کے ساتھ خط و کتابت اور انسیلیٹر کی عدم تنصیب کی وجہ سے خفیہ مافیا کو روزانہ لاکھوں روپے کا مالی فائدہ دینے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پمز انتظامیہ کی نااہلی اور کوتاہی کو مجرمانہ غفلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں کی کرپشن کو چھپانے کیلئے کمیٹی کو آئی واش کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پرائیویٹ فرم کی طرف سے پمز ہسپتال میں تجارتی بنیادوں پر انسیلیٹر کی تنصیب کو کھلی کرپشن قرار دیا۔کمیٹی کے اگلے اجلاس میں کیڈ کے وزیر کی شرکت کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ انسیلیٹر، ائرکنڈیشنگ نظام، ٹیلیفون سسٹم کی بحالی اور فنڈز کے اجرا کیلئے جلد فیصلہ کیا جاسکے۔ اجلاس میں وزارت کیڈ، ماحولیات اور پمز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔