سندھ طاس معاہدے کا جھکاﺅ بھارت کی طرف ہے‘ نظرثانی کر سکتے ہیں : خواجہ آصف

سندھ طاس معاہدے کا جھکاﺅ بھارت کی طرف ہے‘ نظرثانی کر سکتے ہیں : خواجہ آصف

اسلام آباد (خبرنگار + اے این این) وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے مفادات کے منافی تھا، معاہدے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔ پچاس سال میں پلوں تلے سے بہت پانی بہہ گیا، پانی کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دینگے۔ نوازشریف نے منموہن سنگھ سے بھی معاملہ اٹھایا ہے، پانی پر نظر رکھنے کیلئے سیٹلائٹ مانیٹرنگ ضروری ہے۔ وزارت پانی و بجلی میں پریس کانفرنس کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے دریاﺅں میں پانی کی کمی کا تاثر غلط ہے لیکن پانی کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ اگلے دس سے پندرہ سال میں خشک سالی کا خطرہ ہے اور قحط پڑ سکتا ہے اور پاکستان ایتھوپیا بن سکتا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ انڈیا سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان سے ماضی میں کوتاہیاں ہوئیں جس کا ہمیں شدید نقصان اٹھانا پڑا، کئی محب وطن پاکستانیوں کو سندھ طاس معاہدے پر بھی اعتراضات ہیں۔ اس معاہدے کا جھکاﺅ انڈیا کی طرف ہے معاہدے میں رہتے ہوئے پاکستان کے حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کو پانی کے حوالے سے جغرافیائی طور پر پاکستان پر برتری حاصل ہے، انڈیا اوپر کی طرف ہے جبکہ پاکستان نیچے، کش گنگا کا معاملہ عالمی عدالت میں ہے، توقع ہے کہ ستمبر میں فیصلہ ہوجائیگا۔ اگر انڈیا کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے تو پاکستان کو 13فیصد پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑیگا اور اگر پاکستان کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے تو پاکستان کا صرف 3فیصد نقصان ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ ہمارے پاس پانی کے زیادہ ذرائع نہیں، ہمیں وہ تمام منصوبے تیزی سے مکمل کرنے چاہئیں جو کہ غیرمتنازعہ ہیں، بھاشا ڈیم پر پاکستان 21 ارب روپے خرچ کرچکا ہے گزشتہ دو سالوں میں پاکسان نے داسو اور بھاشا ڈیم پر بیک وقت کام کرنے کیلئے فنڈز کا بندوبست کر لیا ہے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے پاکستان انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق سندھ، جہلم، چناب کے پانی پرپاکستان کا حق 80 فیصد ہے، انڈیا کو ان دریاﺅں پر صرف 285 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا بھارت وولر بیراج کی تعمیر میں معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس منصوبے پر گزشتہ 27 سال سے کام بند پڑا ہے، بھارت چناب پر 53 منصوبے بنا رہا ہے جن میں سے 7 منصوبے ڈیموں کے ہیں، 53میں سے 16نئے منصوبے ہیں جبکہ 5 زیر تعمیر ہیں، بگلیہار ڈیم متنازعہ منصوبہ ہے اس پر 4 اعتراضات ہیں 3 پاکستان کے حق میں ہیں جہلم پر 17پرانے اور 6 نئے منصوبے ہیں۔
خواجہ آصف