تحریک انصاف کیلئے ایم کیو ایم کی مدد کے بغیر نیا اپوزیشن لیڈر لانا ممکن نہیں

اسلام آباد (محمد نواز رضا / وقائع نگار خصوصی) قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی مدد کے بغیر تحریک انصاف کا پسندیدہ قائد ’’حزب اختلاف‘‘ بنانا ممکن نہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت کے حالیہ رابطوں میں ایم کیو ایم نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا پسندیدہ قائد حزب اختلاف لانے کی کوششوں کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس کے بدلے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت‘ ایم کیو ایم سے ’’نرم رویہ‘‘ اختیار کرے گی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ سے مل کر نیا اپوزشن لیڈر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایم کیو ایم کی تائید حاصل کرنے میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ بہرحال یک رکنی جماعت کے ایک لیڈر اس منصب کے حصول کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں لیکن اپوزیشن کی کسی جماعت نے ان کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی تائید نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کو سپیکر جس اصول کے تحت اپوزیشن لیڈر کی تقرری کرتا ہے اسی اصول کے تحت اسے اس منصب سے ہٹا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق سپیکر اپوزیشن کے اکثریت ارکان کے دستخطوں سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کرتا ہے اگر اپوزیشن کے ارکان کی اکثریت موجودہ اپوزیشن لیڈر کو ہٹانے کے لئے دستخط کر دے تو اس کے ساتھ نئے اپوزیشن لیڈر کے نام پر بھی ان کے دستخط ہونے کی صورت میں سپیکر نئے اپوزیشن لیڈر کا اعلان کرتا ہے۔ تحریک انصاف‘ چیئرمین نیب کے نام پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے کی وجہ سے نالاں ہے جبکہ کچھ دیگر عناصر بھی اپوزیشن لیڈر کے خلاف سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 4 نومبر 2013ء منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سخت کشیدگی دیکھنے میں آئے گی۔ تحریک انصاف سے سرد جنگ نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو قریب تر کر دیا ہے۔