فنڈز میسر نہیں تو نئے منصوبے شروع نہ کئے جائیں : وزیراعظم یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی +لیڈی رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آغاز حقوق بلوچستان پیکج پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں کوئی علاقہ محروم نہیں رہے گا۔ لوگ جلد تبدیلی محسوس کریں گے۔ حکومت اقتصادی‘ سماجی‘ قانونی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ وہ یہاں بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی‘ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ سے ملاقات اور خواتین ارکان پارلیمنٹ کے قومی کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم گیلانی نے آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کیلئے امتحانات کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ بلوچستان کے عوام کے دیرینہ مطالبات کے حل کی جانب پہلا قدم ہے اور وہ آئندہ آنے والے دنوں میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ وزیراعظم گیلانی نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں غریبوں کیلئے مثبت اثرات کے حامل اور اقتصادی سرگرمیوں کا باعث بننے والے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے آئندہ سال کے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے متعلق بریفنگ دی۔ خواتین ارکان پارلیمنٹ کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا امتیازی قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں، مثبت سماجی تبدیلی اور پائیدار امن کیلئے خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے، خواتین ارکان پارلیمنٹ کی شرکت اور تعاون کے بغیر قانون سازی کا عمل مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ آن لائن کے مطابق وزیراعظم کے ساتھ مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹرندیم الحق اور سیکرٹری پلاننگ کمیشن اشرف حیات کی ہونے والی ملاقات میں آئندہ مالی سال کے لئے پی ایس ڈی پی کو حتمی شکل نہ دی جاسکی تاہم نئے منصوبے شروع نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے یہ معاملہ قومی اقتصادی کونسل کے جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں فائنل کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے وزارت خزانہ و پلاننگ کمیشن سے کہا ہے کہ پی ایس ڈی پی میں ان منصوبوں کو ترجیح دی جائے جن کا نہ صرف عوام پر مثبت اثر بلکہ ان سے اقتصادی سرگرمیاں بھی تیز ہوں ۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے کہا کہ جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اور ان کی مانیٹرنگ کرکے اضافی اخراجات کو بچایا جائے ۔ ملاقات کے حوالے سے ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ مشیر خزانہ نے وزیراعظم کو پی ایس ڈی پی کے حوالہ سے دستیاب وسائل کے بارے میں آگاہ کیا ان کا موقف تھاکہ ہمارے پاس اتنے وسائل دستیاب نہیں کہ بڑی تعداد میں نئے منصوبے شروع کئے جائیں اگر ایسا کیا گیا تو پہلے سے جاری منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن کا ملکی معیشت پر منفی اثر پڑسکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ نے نئے منصوبوں کے لئے بجٹ فراہم کرنے سے معذرت کرتے ہوئے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ ان کی رہنمائی فرمائیں کہ محدود وسائل میں کس طرح ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جائے جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ معاملہ قومی اقتصادی کونسل میں حل کریں کہ کون سے منصوبے ضروری ہیں‘ اگر فنڈ نہیں ہیں تو بے شک نئے منصوبے شروع نہ کئے جائیں تاہم انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیئے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں یہ طے نہیں پایا جاسکا کہ آئندہ مالی سال میں پی ایس ڈی پی کا حجم کیا ہوگا اور اس میں کتنے منصوبے شامل ہوں گے۔لیڈی رپورٹر کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں کافی تعداد میں خواتین ارکان کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے قومی امور پر فیصلہ سازی میں خواتین کو شریک کیا جاتا ہے‘ جنوبی ایشیا کی خواتین امن اور مفاہمت کے فروغ میں اپنا اہم کرداراداکر سکتی ہیں وہ منگل کو کنونشن سینٹر میں خواتین پارلیمنٹیرین کے عالمی کنونشن ”امن‘ مفاہمت اور مساوات“ میں دنیا بھر سے آئی ہوئی خواتین پارلیمنٹیرین سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستانی خواتین اراکین اسمبلی خواتین کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنا اہم کردارادا کر رہی ہیں امید ہے کہ جلد پاکستانی خواتین اپنے پاوں پرکھڑی ہو جائیں گی خواتین اراکین کی سال بھر کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لئے مختص دس فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا خواتین اراکین اسمبلی اور اقلیتوں کو برابری کی سطح پر نشستیں دی جائیں گی۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کو کامیاب عالمی کنونشن منعقد کرنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید چاہتی تھیں کہ پاکستانی خواتین کو بااختیار بنایا جائے وہ دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کریں۔ کوئی بھی ملک خواتین کی شرکت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اس لئے میں بھی خواتین کو ساتھ لیکر ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے دفاتر میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے خلاف بل اور گھریلو تشدد کا بل پارلیمنٹ سے متفقہ طورپر منظور کروایا ہے اب حکومت ان قوانین پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے اورجائیداد لینے کے حق کو محفوظ بنانے پر غور ہورہا ہے خواتین آگے بڑھنے کے لئے بے نظیر بھٹو شہید کی مثال کو اپنے سامنے رکھیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی خواتین پارلمنٹیرین کے کنونشن سے خطاب کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہاکہ آج خواتین قومی امور میں موثر شرکت کے خواب کو پوری قوت سے حقیقت میں بدل رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا خواتین کو بااختیار بنانے کا خواب حقیقت میں ڈھل رہا ہے مجھے یقین ہے کہ خواتین اراکین اسمبلی فہمیدہ مرزا کی قیادت میں خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔