اداروں میں تصادم کی افواہیں دم توڑ گئیں‘ 6 کروڑ ڈالر کے 50 سے زائد دعویدار ہیں : بابراعوان‘ قمرکائرہ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ریڈیو نیوز + وقت نیوز) وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے اداروں میں نہ پہلے تصادم ہوا ہے نہ ہو گا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ گذشتہ روز کی سماعت کے بعد اداروں میں تصادم کے حوالے سے جو افواہیں تھیں وہ دم توڑ گئیں۔ وہ سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر قانون نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران میں نے عدالت کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ معزز جج صاحبان نے مجھ سے کہا کہ آپ کا تعلق کسی اور کے مقابلے میں ہم سے زیادہ ہے کیونکہ آپ اس عدالت کے سینئر وکیل ہیں۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ پہلے بھی کرتے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ وزرا کی بڑی تعداد کی عدالت میں موجودگی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کی کارروائی دیکھنے آئے تھے۔ اس کا کوئی اور مطلب نہیں لیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ‘ وکلاءاور سیاستدانوں کا ایک مخصوص گروہ ادارں میں تصادم کا خواہش مند ہے مگر اکثریت ایسا نہیں چاہتی اگر کسی سینئر صحافی کا مقدمہ ہو تو بڑی تعداد میں صحافی اخلاقی حمایت کیلئے ساتھ آئیں گے۔ وقت نیوز کے مطابق بابر اعوان نے کہا کہ سماعت کے دوران فیصلے کے بعض پہلو سامنے لایا ہوں جو بتا نہیں سکتا۔ عدالتی کارروائی پر تبصرہ نہیں کرونگا۔ حکومت نے تمام آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر میرے بجائے اٹارنی جنرل پیش ہوں۔ کابینہ کے سامنے گزارشات پیش کریں گے، پھر حکمت عملی طے کرینگے۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ قمر کائرہ نے کہا کہ 60 ملین ڈالر سے متعلق عدالت کو بتایا ہے کہ یہ متنازعہ معاملہ ہے اور ہوائی باتیں ہیں اس کے 50 سے زائد دعویدار ہیں عدالت میں جو بات کی اس کا ثبوت بھی پیش کیا ہے عدالت نے اطمینان سے بابر اعوان کے دلائل سنے تصادم کی خواہش رکھنے والوں کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ این آر او فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران کابینہ کے ارکان کی سپریم کورٹ میں موجودگی کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی اور نہ ہی اس کا مقصد کسی قسم کا دباو ڈالنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جج صاحبان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ٹکراو کی کوئی کیفیت نہیں ہے بلکہ تمام اداروں نے مل کر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ معزز ججوں نے حکومتی موقف کی تائید کی اور اسے صحیح تسلیم کیا۔ کائرہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ سو دفعہ بھی بلائے سر تسلیم خم، آنے کو تیار ہیں۔