ہر ایک لاکھ میں سے 328 پاکستانی تپ دق کا شکار، 2010-11ء کی جائزہ رپورٹ پیش

اسلام آباد (وقائع نگار+ ثناء نیوز) نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اور کو آرڈینیشن کی وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے پاکستان اور عالمی برادری کو مل کرتپِ دق کے خلاف کام کرنا ہوگا، تپِ دق کا عالمی دن اس بیماری کے سدباب اور اس سے نجات کے لئے دنیا بھر کے عزم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جبکہ یو ایس ایڈ کی قائم مقام مشن ڈائریکٹر نینسی ایسٹس نے کہا ہے کہ تپِ دق  کی روک تھام کے لئے پاکستان میں جاری کوششوں کو  دوگنا کر نا ہو گا۔ تپِ دق کے عالمی دن کے موقع پرامریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ)کی قائم مقام مشن ڈائریکٹر نینسی ایسٹس نے 2010-11ء کے لئے تپِ دق کی صورتحال پر مبنی ایک جائزہ رپورٹ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں پیش کی۔ یہ 1987ء سے لیکر اب تک اپنی نوعیت کا پہلا جائزہ ہے۔ تپِ دق وہ بیماری ہے جو عام طور پر پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تازہ سروے کے مطابق ہر ایک لاکھ میں سے 328 افراد تپِ دق کا شکار ہیں جو 1987ء کے مقابلے میں دوگنی شرح ہے۔ سائرہ افضل تارڑ نے عالمی یوم تپ دق کے موقع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے تپ دق قابل علاج مرض ہے حکومت ملک بھر میںاس کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے زندگی کے تمام طبقات سے کہا وہ حکومت کی جانب مفت علاج کے سلسلے میں مریضوں کی مدد کریں۔ وزیر مملکت نے ان خیالات کا اظہار 24مارچ کو پاکستان بھر میں منائے جانے والے عالمی ویوم تب دق کے والے پر ایک سیمینارآج سے خطاب کے دوران کیا۔ پاکستان دنیا میں تب دق کے شکار ملک میں پانچویں نمبر پر ہے۔ عوام میں تعلیم اور آگاہی کے ذریعے مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ وزیر مملکت نے مزید کہا اب تک 1.5ملین تب دق کے مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے جن کا 1500 مائیکرو سکوپی اور 4000 مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں سرکاری اور نجی شعبہ کے تعاون سے اعلیٰ ادویات کے ذریعے مفت علاج کیا ہے۔ اس نیٹ ورک کا دائرہ کار مرحلہ وار بڑھایا جارہا ہے۔ تپ دق کی روک تھام میں استعمال ہونے والی مختلف ادویات بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، حکومت پاکستان بھر میں 18طبی مراکز میں 3140سے زائد ایسے مریضوں کو علاج کی خصوصی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔