نیلم جہلم منصوبے کیلئے اضافی گاڑیاں خریدنے کا انکشاف‘ پی اے سی نے تفصیلات مانگ لیں

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آن لائن) قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ چیئرمین نے آڈٹ اعتراضات کم کرنے پر سیکرٹری پانی و بجلی کی سرزنش کی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ اگر سب کچھ آپ نے خود طے کرنا ہے تو ہماری اور آڈٹ والوں کی کیا ضرورت ہے۔ چیئرمین نے پی اے سی سیکرٹریٹ حکام کی بھی سرزنش کی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی جانب سے اپنی تنخواہ بڑھانے کی خبریں درست نہیں۔ ڈپٹی آڈیٹر جنرل نے اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ آئینی عہدوں پر موجود دیگر افراد کی تنخواہوں کا موازنہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ آن لائن کے مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کو بتایا گیا ہے کہ نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ 2015ء میں مکمل کر لیا جائے گا جس سے ملک کو فوری 100ارب اور اس کے بعد سالانہ 50ارب روپے کا فائدہ ہوگا،منصوبے کیلئے 54گاڑیوں کی منطوری دی گئی تھی مگر 87گاڑیاں خریدی گئیں جن میں سے دو بڑی گاڑیاں وزیروں کے پاس ہیں، جس پر کمیٹی نے گاڑیوں کی مکمل فہرست طلب کر لی ہے جبکہ ریلوے کی طرف سے ایک منصوبہ میں بچ جانے والی تین کروڑ کی رقم واپس نہ کرنے پر وزارت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیلم جہلم منصوبے کے لئے لگژری گاڑیاں خریدنے پر 28کروڑ82لاکھ روپے اضافی خرچ کئے گئے جس کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔