اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، وزیر داخلہ کے رویہ پر احتجاج، مذاکراتی کمیٹی مسترد

اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، وزیر داخلہ کے رویہ پر احتجاج، مذاکراتی کمیٹی مسترد

اسلام آباد (اے پی اے+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے وزیرداخلہ چودھری نثار کے روئیے پر احتجاج کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کیلئے قائم حکومتی کمیٹی کو مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں بیوروکریٹ کے بجائے سیاستدانوں شامل ہونے چاہئیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی زیر صدارت پیپلزپارٹی، اے این پی اور (ق) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر پر یپپلز پارٹی کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا، خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں نہیں دھکیلنا چاہئے۔ خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن قائم ہونا چاہئے، وزیراعظم سینٹ نہیں جاتے تو دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ کسی بھی فوجی کو بیرون ملک نہ بھجوایا جائے، بالواسطہ یا بلاواسطہ شام میں فوج بھیجنے پر احتجاج کریں گے۔ ثنا نیوز کے مطابق پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے حکومت طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل پر تحفظات اور اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لنیے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ پارلمیانی اجلاس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔