عید کے بعد برطانیہ سے آزادانہ تجارت کے معاہدے کیلئے مشاورت کا فیصلہ

عید کے بعد برطانیہ سے آزادانہ تجارت کے معاہدے کیلئے مشاورت کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی این پی) حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ عیدالفطر کے بعد برطانیہ سے آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر دستخط کرنے کےلئے بین الوزارتی مشاورت کا آغاز کیا جائے گا، یہ فیصلہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد جی ایس پی پلس کے فوائد کو ممکنہ خطرات سے بچانے کےلئے کیا گیا ہے۔ ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ برطانیہ جی ایس پی پلس میں دی جانے والی مراعات سے دست بردار ہو سکتا ہے، پاکستان کی برطانیہ کو برآمدات 2014ءمیں 32.6 فیصد اضافہ ہوا تھا جو 1.2744 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.65ارب ڈالر ہو گئی تھی، ایک سینئر حکومتی اہلکار جو بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بتایا کہ پاکستان کی برطانیہ کے ساتھ تجارت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا برطانیہ کسٹم یونین کا حصہ رہتا ہے یا نہیں۔ پاکستان کی مجموعی برآمد اور درآمد میں زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ دریں اثناءوزارت تجارت نے آئندہ ہفتے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ جسمیں آئندہ کا تجارتی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ برطانوی ریفرنڈم کے باوجود جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی برطانیہ کو برآمدا ت متاثر نہیں ہوں گی، پاکستانی ایکسپورٹرز برطانیہ کو بلا تامل برآمدات جاری رکھیں۔ آرٹیکل 50کے مطابق نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے دو سال بعد تک یورپی یونین کے معاہدے اور اقرار نامے اس ملک پر لاگو ہوتے ہیں ۔ پاکستان کیلئے برطانیہ کے جی ایس پی پلس کے فوری ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔ دریں اثناءوزارت تجارت نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد جی ایس پی پلس کے تحت برطانیہ کو برآمدات متاثر نہیں ہوں گی۔ برطانیہ کے ساتھ جی ایس پی پلس ختم ہونے کا فوری کوئی خدشہ نہیں۔ پاکستانی برآمد کنندگان برطانیہ کو بلاتعطل برآمدات جاری رکھیں۔ یاد رہے کہ وزیر تجارت خرم دستگیر کے مطابق تجارت‘ خارجہ کی وزارتیں لندن میں پاکستانی ہائی کمشن سے رابطے میں ہیں۔ لندن میں کمرشل کونسلرز کو متعلقہ حکام سے رابطے کی ہدایت کردی ہے۔
برطانیہ/ برآمدات