غلط ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پر 3 سال قید‘ ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو گا

غلط ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پر 3 سال قید‘ ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو گا

اسلام آباد (آن لائن) اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باوجود حکومت نے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس چوری کو منی لانڈرنگ قررا د لانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔ نوٹیفیکیشن کے تحت دانستہ طور پر غلط ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال کی قید سنائی جا سکے گی ۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دانستہ طور پر غلط انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانا ٹیکس انوائسز میں رد و بدل اور قومی ٹیکس نمبر کے غلط استعمال کرنا منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گا۔ اس طرح ایف بی آر افسران کو ٹیکس ریکارڈ تک رسائی نہ دینا اور ٹیکس چوری کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا بھی منی لانڈرنگ تصور ہو گا جبکہ جان بوجھ کر یا غیر دانستہ طور پر قومی شناختی کارڈ نمبر کا غلط استعمال کرنا بھی منی لانڈرنگ تصور کیا جائے گا ۔ این ٹی این کے غلط استعمال پر 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دوسرے شخص کا این ٹی این استعمال کرنے پر دو سال کی قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق حکومت نے ایف بی آر ان لینڈ ریونیو اینڈ انٹیلی جنس کو منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا اختیار بھی دے دیا ہے ۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتون نے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو منی لانڈرنگ کا جرم قرار دینے کے فیصلہ کی مخالفت کی تھی ۔