عمران کو الیکشن کمشن پر اعتماد نہیں تھا، اب اسی سے رابطہ کرلیا: پرویز رشید

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور جمہوریت، قومی اداروں اور معیشت کی مضبوطی کیلئے قومی اتحاد اور ہم آہنگی ضروری ہے، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کو ایک پرامن اور ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر آگے لے کر جائیں، محاذ آرائی کے بجائے ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں حکومتوں کے انتخاب اور تبدیلی کا کام ووٹرز پر چھوڑ دینا چاہئے اور اپنا قیمتی وقت سماج دشمن عناصر کے خاتمہ، امن کی بحالی اور خوشحالی پر صرف کرنا چاہئے۔ ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے تاہم اپوزیشن کو ترقیاتی عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے، ہمیں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اپنے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اس بات سے باخبر ہے کہ 1999 ء سے لیکر 2013 تک پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی برسراقتدار رہے لیکن اس دور میں ایک بھی عوامی فلاحی میگا پراجیکٹ شروع نہ کیا جاسکا لیکن گزشتہ تین سال میں موجودہ حکومت نے نے ایک نہیں دو نہیںبلکہ درجنوں ایسے میگا پراجیکٹس شروع کئے جن پر آج تک ہمارے مخالفین بھی کوئی الزام نہیں لگا سکے۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے کسی ممبر کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ حج کرپشن بھی سابقہ حکومت کے دور میں ہوا اور انہی کے وزراء میں سے ایک وزیر کو عدالت نے سزا بھی دی۔ عمران خان کے الیکشن کمشن میں ریفرنس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان اس سے قبل اس الیکشن کمشن پر اعتماد نہیں کرتے تھے لیکن اب انہوں نے الیکشن کمشن سے رابطہ کیا جو عمران خان کے سابقہ موقف کو غلط ثابت کرتا ہے۔ عمران خان کیلئے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے چند اثاثے چھپائے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی عمران خان کو چیلنج کیا ہے اور اب بھی کرتے ہیں کہ اگر وہ وزیراعظم کے خفیہ اثاثے ثابت کردیں تو ہم یہ اثاثے عمران خان کے ہسپتال کو عطیہ کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عمران خان ان ریفرنسز کے حوالے سے الیکشن کمشن کے فیصلے کو قبول کریں گے۔ افطار ڈنر پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احتساب کا نعرہ سب لگاتے ہیں مگر کسی کو بھی اس پر اعتماد نہیں، حکومت اور فوج کا ایک صفحہ پر نہ ہونے کا تاثر ٹھیک نہیں ہے، اپوزیشن جماعتیں خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو صحافت پابند سلاسل ہوجائیگی، قانون نافذ کرنے والے ادارے امجد صابری کے قاتلوں کے قریب پہنچ چکے ہیں آئندہ ایک دو ورز میں صورتحال واضح ہو جائیگی، افغانستان کے ساتھ بہتر باڈر مینجمنٹ کو کابل نے بھی تسلیم کیا ہے۔ سی پی این ای کے نومنتخب عہدیداروں اور سٹیڈنگ کمیٹی کے ممبران کے اعزاز میں دئیے افطار ڈنر پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔