مجید نظامی نڈر تھے، صحافت کو بزنس نہیں بنایا: اسلام آباد میں تقریب

مجید نظامی نڈر تھے، صحافت کو بزنس نہیں بنایا: اسلام آباد میں تقریب

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم /صلاح الدین خان /رستم اعجاز ستی/فوٹو گرافر ملک سہیل) مجید نظامی ایک نڈرصحافی،سیاسی اور ادبی شخصیت تھے اس وقت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ زیادہ تر افراد ان کے شاگرد وں میں سے ہیں ،انہوں کبھی نظریہ پاکستان پر سمجھوتہ نہیں کیا، ان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ،مجید نظامی دریا کو کوزے میں بند کرنے والے بامعنی مختصر مگر خوبصورت جملے بولتے تھے ، پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے انکی وابستگی مثالی رہی۔ انڈیا کا ایجنڈا ہے کہ بے وقت پانی چھوڑ اور روک کر پاکستان میں آبی بحران پیدا کیا جائے ، آج مجید نظامی نہیں ہیں تو ،بھارتی وزیر اعظم کے بیان کہ ہم نے جارحیت کرکے بنگلہ دیش کو پاکستان کے چنگل سے نجات دلائی کا جواب دینے والا کوئی نہیں ،مجید نظامی دشمن کو دشمن اور دوست کو دوست کہتے تھے۔ قائد اعظم کے کہنے پر قائم ہونے والے اخبار ’’نوائے وقت‘‘ کی قیادت، حمید نظامی، مجید نظامی کے بعد اب رمیزہ مجید نظامی کے ہاتھ میں ہے جو اب ان کے مشن ،صحافتی،سیاسی اور ادبی اقدار کو لیکر آگے بڑھ رہی ہیں ،ان خیالات کا اظہارڈاکٹر مجید نظامی کی پہلی برسی کے موقع پر، "نوائے وقت ہائوس "اسلام آباد میں مجید نظامی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے کیا۔ مہمان خصوصی جنرل (ر) عبدالقیوم خان تھے،تلاوت قرآن کریم وسیم سیفی نے کی جبکہ دیگر شرکاء میں پروفیسرفتح محمد ملک،ڈاکٹر احسان اکبر،حمید شاہد،ظفر بختاوری،نزاکت حسین ،ڈاکٹر فرحت عباس،سحر منصور،حمید شاہد ،پروفیسر جمیل یوسف،عائشہ مسعود،فرح دیبا،منیرہ شمیم نعیم فاطمہ،حکیم محمد سہارنپوری شامل تھے۔ جنرل (ر) عبدالقیوم خان نے کہامجید نظامی ایک قد آور صحافتی شخصیت کے مالک تھے وہ صحافت کے فیلڈ مارشل اور بابائے صحافت تھے۔ مفاد پرست لوگوں نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا جس کا تحفہ لوڈشیڈنگ کی صورت میں قوم بھگت رہی ہے۔ سرسید احمد خان بیک وقت صحافی سیاست دان اور ادبی شخصیت تھے انہوں نے اپنے رسالے تہذیب الاخلاق میں 612آرٹیلز لکھے، حضور پاکؐ نے بھی سیاست کی، صلحہ حدیبہ، میثاق مدینہ بہترین مثالیں ہیں سیاست بری چیزنہیں مگر اس کیلئے انسان کا دل صادق اور امین ہونا چاہئے۔ نزاکت حسین نے کہا کہ انہوں نے صدم کو جنگ سے پہلے خط لکھا تو ان کا ایلچی پاکستان آیا اس نے تعریقی سرٹیفیکیٹ دیا اور کہا کہ اس وقت پاکستان میں دو ہی شخصیات ہیں جن کی وجہ سے مجھے پورا پاکستان اچھا لگا ہے ایک پیر گولڑہ شریف دوسرے مجید نظامی ہیں۔ مجید نظامی نے جناح گارڈن لاہور اور فاطمہ جناح پارک اسلام آباد میں لینڈ مافیا کو قبضہ سے روکا آج لائبریریاں ان کے دم سے آباد ہیں۔ ڈاکٹر فرحت عباس نے کہا کہ مجید نظامی سے سیاست،صحافت اور ادب کا گہرا رشتہ ہے۔ سعودیہ سے آئے ہوئے سحر منصور نے کہا کہ جب انڈیا کے جواب میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی بحث چھڑی تو اس موقع پر مجید نظامی کا کہنا تھا وزیراعظم ایٹمی دھماکہ کریں وگرنہ عوام آپ کا دھماکہ کردیں گے۔ حمید شاہد نے کہا کہ ہم اپنی ثقافت بھولتے جارہے ہیں ہر طرف انارکی ہے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جارہا لوگ مایوس اور احساس محرومی کا شکار ہیں پہلا اخبار جام جہاں نکلا جس مالک ہندو ہری دت اور ایڈیٹر سکھ لالہ سرا تھا جو آدھا اردو آدھا فارسی میں تھاپہلے قومی تقاضے اور زمانے کے ایشو خبر کا حصہ بنے تھے ،میڈیا پر شاعر اور ادبی شخصیات کو موقع دینا چاہئے۔وسیم سیفی نے کہا کہ مجید نظامی کے نام پرکوئی تعلیمی ادارہ ،یونیورسٹی حکومتی سطح پر قائم کی جائے ،مجید نظامی کہتے تھے مجھے انڈیا بھیجنا ہے تو میزائل کے ساتھ باندھ کر ،وہ کھبی انڈیا نہیں گئے،لینن جرمینی اور خمینی ایران ،جوہر انڈیاسے جلاوطن ہوئے انہوں نے ہمہشہ آزاد جموں کشمیر کی بات کی۔ جمیل یوسف پروفیسر نے کہا کہ مجید نظامی کی ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں نوائے وقت کا پہلا روزنامہ 23مارچ 1940ء کو نکالا گیا۔ ادبی صفحہ کے انچارج عطاالحق قاسمی تھے۔ ظفر بختاوری نے کہا کہ وہ پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے وہ جمہوریت کے بڑے حامی تھے۔ ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ صحافت کی تاریخ میں مسلمانوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ حمید نظامی کے بعد صحافت مجید نظامی کے ہاتھ آئی انہوں نے پوری زندگی فلم کا اشتہار نہیں لیا۔ صحافت کو صحافت رکھا بزنس نہیں بنایا۔فتح محمد ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجید نظامی میں قومی غیرت کوٹ کوٹ کر بھری تھی وہ ضیا ء بھٹو ایسے حکمرانون کو بھی خاطر مین نہ لاتے تھے آج غیر ملکی پیسہ نے صحافت کا چہرہ مسخ کردیا۔ تقریب کے اختتام پر حکیم محمد سہارنپوری نے ڈاکٹر مجید نظامی کے بلندی درجات کیلئے دعائے مغفرت کرائی۔