پولیو کے خاتمے کا عالمی دن منایا گیا، پاکستان مرض کا بڑا مرکز ہے: یونیسف

اسلام آباد+ کوئٹہ+ اقوام متحدہ (نیوز ایجنسیاں+ نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان سمیت دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کا دن منایا گیا۔ اس موقع پر کئی شہروں میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا، پولیو کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے گئے جبکہ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسف نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ رواں سال پولیو کے 200 سے زائد کیسز سامنے آنے پر پاکستان اس وقت پولیو کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔ آن لائن کے مطابق بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا۔ رواں سال بلوچستان میں پولیوکیسزکی مجموعی تعداد 7 ہوگئی۔ ڈپٹی منیجر ای پی آئی پروگرام بلوچستان ڈاکٹر اسحق کے مطابق ژوب کی یونین کونسل لکی بندہ کی دو سال کی بچی واحدہ کریم شاہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ بچی کے والدین نے پولیو سے بچائو کی ویکسین پلانے سے انکار کردیا تھا۔ پشاور سے نوائے وقت نیوز کے مطابق پشاور میں ایک روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران (ہفتہ) کو موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق پولیو کے عالمی دن کے حوالے سے روٹری کلب کے زیراہتمام ایک ریلی نکالی گئی۔ بی بی سی کے مطابق عالمی پولیو دن کے موقعے پر پاکستان میں پولیو کے  3نئے کیس سامنے آئے ہیں جن کے بعد اب تک اس سال پولیو کے کل کیسوں کی تعداد 220 ہو گئی ہے۔گذشتہ ایک دہائی میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے دنیا بھر میں پائے جانے پولیو کیسوں میں سے 80 فیصد پاکستان میں ہیں۔وزیرِاعظم نواز شریف کے پولیو سیل کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا ہے انسدادِ پولیو پروگرام میں کمزوریاں ہیں جن میں معیار کے مسائل شامل ہیں اور ان کو ٹھیک کرنے کے لئے حکومت حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے۔ سب سے زیادہ کیس قبائلی علاقوں سے ہی آئے ہیں اور خدشہ یہ ہے وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ اس سال جون سے لے کر اب تک سات لاکھ بے گھر افراد کو قطرے پلائے ہیں۔ علاوہ ازیں یونیسف کے مطابق دنیا بھر میں پولیو کیسز کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ 1998ء میں ساڑھے تین لاکھ سے کم ہو کر 2013ء میں پولیو کے مریضوں کی تعداد 416 ہو گئی ہے اور اس سال اب تک 243 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس طرح پولیو کے کیسز میں 99 فیصد کمی ہوئی تاہم افغانستان، نائیجیریا اور پاکستان جہاں پولیو کے کیسز سامنے آتے ہیں میں سے نائیجیریا میں 2013ء کے 49 کے مقابلے میں اس سال صرف 16 کیسز سامنے آئے۔ افغانستان میں بھی پولیو کیسز کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں محکمۂ صحت کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ بلدیہ ٹائون، سہراب گوٹھ، مچھر کالونی سے پانی کے 15 نمونے لئے گئے۔ پانی کے تمام 15 نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی۔ حیدر آباد کے علاقے تلسی داس سے پانی کے 5 نمونے لئے گئے۔ پانچ میں سے 3 نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔