پاکستان کو تاریخ میں پہلی مرتبہ مشرقی و مغربی دونوں سرحدوں پر کشیدگی کا سامنا

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) پاکستان کو اپنی تاریخ میں پہلی بار مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر فوجی کشیدگی کا سامنا ہے۔ مشرق میں ورکنگ باوئنڈری اور کنٹرول لائن پر اگر بھارتی فوج جارحیت اور فوجی طاقت کے مظاہرہ پر تلی ہوئی ہے تو مغربی سرحد پر دس دنوں کے اندر دو بار ایرانی سیکورٹی فورسز نے  پاکستانی  سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی ہے جب کہ ان کی طرف سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر فائرنگ اور گولہ باری ایسا معمول بن چکی ہے جسے پاکستانی میڈیا میں  ابھی تک اجاگر نہیں کیا گیا۔ افغانستان کے ساتھ متصل شمال مغربی سرحد پر  جھڑپیں اور کشیدگی  تو خیر برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ قومی سلامتی کے حلقوں سے لے کر ذرائع ابلاغ تک، یہی سوال کیا جا رہا ہے ایران کا جارحانہ رویہ  محض وقتی اشتعال ہے یا اس کا پاکستان کی مشرقی سرحد پر موجود فوجی دبائو سے کوئی تعلق بنتا ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق پاک ایران سرحد پر  شرپسند عناصر دونوں اطراف میں موجود ہیں جو کبھی پاکستان کی حدود اور کبھی ایرانی حدود کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں۔ یہ الگ الگ گروپ ہیں جو کبھی ایرانی اور کبھی پاکستانی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں ۔ ایرانی حکام کو ان گروپوں کی موجودگی اور مقاصد کے بارے میں تفصیل کے ساتھ علم ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی سیکورٹی فورسز سرحد کی مشکل جغرافیائی صورتحال ،تربیت اور پیشہ ورانہ استعداد کی کمی کے باعث  ان گروپوں  کے مقابلہ میں اکثر مار کھاتی ہیں لیکن اپنی خامیوں پر نظر ڈالنے کے بجائے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ ایران میں پاسداران  انقلاب اور روایتی فوج و نیم فوجی فورسز کے تین طبقاتی نظام کی بدولت انہیں  روابط میں ہی مشکل درپیش رہتی ہے جب کہ اس کے برعکس پاکستان میں رینجرز اور ایف سی کے اہلکار بھی نہ صرف مکمل تربیت یافتہ ہوتے ہیں بلکہ ان کی کمان فوجی افسروں کے پاس ہونے کے باعث  پیشہ ورانہ یکسانیت بھی موجود رہتی ہے اور اداروں کی سطح پر  روابط کا مسئلہ  بھی  درپیش نہیں رہتا۔ ایرانی الزامات کے تدارک کیلئے  دونوں ملکوں نے مشترکہ بارڈر میکنزم تشکیل دیا  جس کے تحت اجلاس بھی منعقد ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایرانی حکام اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب پاکستان نے ایران کو باور کریا ہے کہ وہ اپنی فورسز کی پیشہ ورانہ استعداد پر توجہ دے، میڈیا کے بجائے دوطرفہ میکنزم کے ذریعہ مسائل  کو اجاگر کیا جائے۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستانی فورسز نے ایرانی اشتعال انگیزی کا  اسی انداز میں جواب دیا ہے کیونکہ ایرانی فائرنگ کے باعث  تازہ ترین واقعہ سمیت متعدد بار پاکستان  کے سکیورٹی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں اور اس بار تو شہادتیں بھی ہوئی ہیں۔