سینٹ قائمہ کمیٹی: بھارتی جارحیت کیخلاف قرارداد منظور، وزراء کی عدم شرکت پر بابر اعوان گرم

سینٹ قائمہ کمیٹی: بھارتی جارحیت کیخلاف قرارداد منظور، وزراء کی عدم شرکت پر بابر اعوان گرم

اسلام آباد(آئی این پی) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر نے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال بھارتی گولہ باری سے جانی و مالی نقصان کی پرزور مذمت کی قرارداد منظور کرلی‘ کمیٹی کے رکن سینیٹر بابر اعوان اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف‘ مشیر خارجہ سرتاج عزیز‘ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور وزیر امور کشمیر چودھری برجیس طاہر کی عدم شرکت پر کمیٹی کے چیئرمین اور سیکرٹری کشمیر افیئرز شاہداللہ بیگ سے الجھ پڑے اور وزراء اور مشیروں کی بجائے بیوروکریسی سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کی صورتحال پر بریفنگ لینے سے انکار کر دیا اور سینیٹر سعیدہ ا قبال کے ہمراہ کمیٹی اجلاس سے علامتی واک آئوٹ بھی کیا‘ جمعہ کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین نیاز احمد خان کی زیر صدارت ہوا تو اجلاس میں صرف ایک رکن بابر اعوان موجود تھے انہوں نے مزید ارکان کے انتظار کے بغیر ہی اجلاس شروع کرنے پر اصرار کیا۔ بعدازاں اجلاس کے دوران کمیٹی کی رکن سعیدہ اقبال ‘ محمد علی رند اور روبینہ خالد بھی شریک ہوئیں۔ واضح رہے کہ کمیٹی کا ایہ اجلاس سینیٹر بابر اعوان کی خصوصی ریکوزیشن پر منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں بابر اعوان نے وزراء اور مشیروں کی عدم شرکت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کیلئے کشمیری عوام اور پاکستانی شہریوں کی شہادتیں اور بارڈرز پر بھارتی جارحیت کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیا وزراء کیلئے ان ایشوز سے زیادہ اہم کام بھی ہیں۔ ہم وزراء کیخلاف واک آئوٹ کریں گے۔ چیئرمین کمیٹی باز محمد خان نے وضاحت کی کہ خواجہ آصف‘ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کو مدعو ہی نہیں کیا گیا لہٰذا ان کی مذمت نہیں کی جاسکتی۔ بابر اعوان نے چیئرمین کمیٹی کی وضاحت کی پرواہ کئے بغیر سعیدہ اقبال کے ہمراہ اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔ علامتی واک آئوٹ کے بعد اجلاس میں سرکت پر سعیدہ اقبال نے کہا کہ حکومت ہمارے کندھوں کے باوجود نہیں بچ سکے گی کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ تاجر کو حکمران نہ بنائیں کیونکہ وہ ملک بیچ دے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ وزراء کی عدم شرکت پارلیمنٹ کمیٹی اور کمیٹی کے چیئرمین کی توہین ہے اسلئے ہم صرف بھارت کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کریں گے‘ دیگر کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے فارن آفس اور حکومت کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کو سبق سکھانے کے بیان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ہم نے بھارت میں کوئی سٹیل مل نہیں لگائی اسلئے خاموش نہیں رہیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری کشمیر افیئرز شاہداللہ بیگ کی سینیٹر بابر اعوان سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عرصہ سے پارلیمانی کمیٹیوں میں پیش ہوئے اور بریفنگ دیتے آئے ہیں۔ ہم منتخب نمائندے نہیں ہیں لیکن ہمیں بھی احترام ملنا چاہئے۔