ڈرون حملے ہماری خودمختاری کیخلاف ہیں‘ نئی حکومت آنے سے خارجہ پالیسی اور ایران گیس معاہدے میں تبدیلی کا امکان نہیں: سیکرٹری خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ نے پاکستان کا انتہائی کامیاب دورہ کیا۔ پاکستان چین کو لاحق خطرے کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ چین کی فورسز پاکستان کی سرزمین پر موجود نہیں۔ امریکہ کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں اہم تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔ نئی وفاقی حکومت آنے سے خارجہ پالیسی اور پاکستان، ایران گیس پائپ لائن معاہدے میں تبدیلیاں کئے جانے کا امکان نہیں ہے۔ لی کی کیانگ کے دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کے عوام اور حکومت کو چین کی طرف سے زبردست یکجہتی کا پیغام دینا تھا۔ چین کے وزیراعظم 1986ءمیں نوجوانوں کے وفد کے قائد کی حیثیت سے پاکستان آ چکے ہیں جمعہ کے روز دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی وزیراعظم کے اسلام آباد میں قیام کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور کے تمام پہلوﺅں پر سیر حاصل بات چیت کی گئی۔ یہ دورہ سٹریٹجک تعلقات کا تسلسل تھا۔ پاک چین تعلقات نہایت متحرک ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جغرافیائی قرب ہے، عالمی و علاقائی امور پر ان کے خیالات یکساں ہیں۔ خطہ میں پائیدار امن و سلامتی اور سماجی و معاشی ترقی کیلئے پاکستان اور چین باہم شراکت دار ہیں۔ اس دورے کے دیگر مقاصد میں باہمی تجارتی و سٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا، انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں تعاون بڑھانا اور منڈیوں کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک چین تجارت کا حجم بارہ اعشاریہ تین ارب ڈالر ہے جسے اگلے دو برسوں کے دوران پندرہ ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے گا۔ دونوں ملک عالمی اور علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی شعبے میں پرانا تعاون چل رہا ہے جو عالمی تحفظات کے تحت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان چین کے تحفظات سے بخوبی آگاہ ہے۔ پاکستان نے چینی بھائیوں کو یقین دلایا ہے کہ چین کو درپیش خطرہ دراصل پاکستان کیلئے خطرہ ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں شاندار تعاون پایا جاتا ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ کے الزامات غلط ہیں ان کے بیان کردہ کسی پاکستانی علاقے میں چین کی فورسز موجود نہیں ہیں۔ چین اور بھارت کے اچھے تعلقات سے خطے میں امن کو فروغ ملے گا۔ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکی صدرکے بیان کے حوالے سے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ان کے بیان میں یہ قابل ستائش بات ہے کہ طاقت ہر مسئلہ کا حل نہیں ہے اوباما کے بیان میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ڈرون حملے ہماری خودمختاری بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں ہم نے امریکہ کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں اہم تبدیلیاں محسوس کی ہیں پاک چین منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کردیا گیا ہے الطاف حسین کے پاکستان کے خلاف اور تشدد پر اکسانے والے بیانات کے حوالے سے سوالات پر سیکرٹری خارجہ خاموش رہے اور کہا کہ یہ سوالات وزارت داخلہ سے پوچھے جائیں۔ سیکرٹری خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پاکستان کی نئی وفاقی حکومت ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو ختم کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال اس معاہدے میں کوئی تبدیلی کی جائے گی۔ پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے اور اس سلسلے میں تمام آپشنز بروئے کار لائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ لین دین میں پاکستان کوکوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ بھارتی ہائی کمشنر نے لاہور میں میاں نواز شریف سے خیرسگالی کی ملاقات کی ہے خارجہ پالیسی قومی اتفاق رائے کا نام ہے حامد کرزئی ایک آزاد خودمختار ملک کی حیثیت سے کسی بھی ملک سے فوجی امداد مانگ سکتے ہیں تاہم انہیں خطے میں سلامتی کا مجموعی ماحول بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان عوامی رابطوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے چین اور پاکستان کے خیالات یکساں ہیں۔ افغانستان کے موضوع پر پاکستان، چین اور روس خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مشاورت جلد ہو گی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کے بارے میں سیکرٹری خارجہ نے کوئی جواب نہ دیا اور کہا کہ یہ سوال وزارت داخلہ سے پوچھا جائے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے تمام آپشنز استعمال کریگا۔ ایران گیس پائپ لائن منصوبے اور گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے سے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔