شراکت اقتدار، جے یو آئی ف نے قومی ترجیحات کیلئے مسلم لیگ (ن) کو 5مطالبات پیش کر دئیے

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نوازشریف اور جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کے درمیان آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ملاقات کا امکان ہے جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کے فارمولے کا اعلان کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی مذاکراتی کمیٹی سینیٹر پرویز رشید، سردار مہتاب احمد خان، ڈاکٹر طارق فضل چودھری، پیر صابر شاہ، جے یو آئی کی مذاکراتی کمیٹی سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم خان درانی، مولانا گل نصیب خان اور ملک سکندر خان ایڈووکیٹ پر مشتمل ہے۔ دونوں جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان وزارتوں کی بندر بانٹ کی بجائے قومی ایشوز اور ایجنڈا پر بات چیت ہوئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مذاکراتی ٹیم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے قومی ترجیحات کا تعین کرنے کے لئے 5نکاتی مطالبات پیش کئے اور کہا مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق 63سفارشات پر عمل درآمد، پرویز مشرف کی پالیسیوں سے لاتعلقی اور آزاد خارجہ پالیسی اپنانے، اسلامی نظریہ کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی، قبائلی علاقوں میں طاقت کے استعمال کی پالیسی کو ترک کرکے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے مذاکرات کا آپشن استعمال کرنے کی یقین دہانی کرائے۔ مسلم لیگ (ن) پاکستان چارٹر تیار کر رہی ہے وہ یہ چارٹر جمعیت علمائے اسلام ف کو پیش کریگی۔ اس چارٹر کی قبولیت کی بنیاد پر انہیں حکومت میں شامل کیا جائے گا، دونوں جماعتوں کے درمیان نئی حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے قومی ایجنڈا پر بات چیت جاری ہے۔ جمعیت علمائے اسلام دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر نظرثانی چاہتی ہے اس مقصد کے لئے وہ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدآرتد کا تقاضا کر رہی ہے، دونوں اطراف نے تجاویز کا تبادلہ کیا گیا ہے، داخلی و خارجہ پالیسی، اسلامی معیشت، اسلامی نظریہ کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی، بلوچستان پالیسی پر بات چیت جاری ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات رہنما اصول کے طور پر زیرغور ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی مذاکراتی ٹیم نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہونے والی بات چیت سے پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماءاسلام ف میں اکثر معاملات باہمی اتفاق سے طے پا گئے ہیں، دیگر امور کو بھی حتمی شکل دینے کیلئے مذاکرات بہتر اور مثبت سمت میں جاری ہیں۔ ادھر مولانا فضل الرحمان نے صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم کی سفارش پر منی بجٹ بارے کوئی بھی آرڈیننس جاری نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے نگران حکومت کی جانب سے منی بجٹ کو مسترد کر تے ہو ئے کہا ہے کہ نگران حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ منی بجٹ پیش کرے جبکہ منتخب حکومت ہفتہ میں ملک کا نظام سنھبالنے جارہی ہو۔ جے یو آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے نگران حکومت کی طرف سے منی بجٹ میں ملک کا جی ایس ٹی اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے متعلق تجویز کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ نگران حکومت ملک میں بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام ہو گئی ہے۔ اس نے نہ تو صاف شفاف انتخابات کرائے نہ ہی ملک کے روز مرہ معاملات میں کو ئی بہترے لانے میں کامیاب ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپوزیشن میں وقت گزارا ہے، اقتدار کے لئے کبھی مجبور ہوئے نہ ہی مستقبل میں ایسا ہوگا۔ بہت جلد دونوں جماعتیں کسی حتمی نتیجے پر آجائیں گی۔مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے درمیان پالیسی ایشوز پر مذاکرات جاری ہے جن میں انسانی حقوق کی تحفظ، خواتین کے حقوق، ملک میں امن و امان، معیشت میں بہتری، اسلامی نظریہ کونسل کے تجاویز کو عملی جامعہ پہنانا اور دہشت گردی کے معاملات شامل ہیں۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے اکثر معاملات باہمی اتفاق سے طے پاگئے ہیں مگر اس حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔