بلوچستان کا مسئلہ حل ہو گیا تو بہت سوں کی روٹی روزی بند ہو جائے گی: نگران وزیر اعلیٰ

اسلام آباد (ثناءنیوز) بلوچستان کا مسئلہ حل ہو گیا تو بہت سوں کی روٹی روزی بند ہو جائے گی، بلوچستان سے بہت زیادتیاں ہوئیں، فائدہ اٹھانے والوں کا تعلق بلوچستان سے نہیں، بلوچیوں کے حقوق غضب کئے گئے، نئی حکومت کو قدم پھونک کر رکھنے ہوں گے، ڈیرہ بگٹی والوں کا مسئلہ بڑا گھمبیر ہے، وقت ہوتا تو ضرور حل کرتا، آنے والی حکومت کو روڈ میپ دوں گا، چند عناصر کی خواہش تھی کہ انتخابات میں گڑبڑ کی جائے، سابقہ حکومت نے پانچ سالوں میں بہت کام کیا مگر عوام کیلئے نہیں اپنی ذات کیلئے۔ جمعہ کے روز نیشنل پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ میرا تعلق ایک حساس علاقے سے ہے۔ بلوچستان کی صورت حال خراب ہے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ حالات ٹھیک ہو جائیں۔ چونکہ مجھے دو ماہ کا وقت دیا گیا اس دوران میں نے اپنی بساط کے مطابق حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے گورنر بلوچستان بنایا گیا تو اپنی استطاعت کے مطابق پوری کوشش کروں گا کہ ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی عوام کیلئے کچھ کر سکوں۔ نواب غوث بخش باروزئی نے کہا کہ ہمارے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہمارا سب کچھ پاکستان کے ساتھ ہے۔ افسوس ہے کہ اسلام آباد کے لوگ بہت کم بلوچستان کے متعلق جانتے ہیں یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ دریں اثناءنگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر غوث بخش باروزئی کو سکیورٹی خدشات کے باعث اے ایس پی کی گاڑی میں نیشنل پریس کلب سے بلوچستان ہا¶س لے جایا گیا، پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والے سینکڑوں بگٹی ان کی راہ دیکھتے رہے۔ اس دوران نگران وزیر اعلیٰ کی گاڑی اور پروٹوکول گاڑیاں نیشنل پریس کلب کی پارکنگ میں کھڑی ہیں۔