تارکین وطن کی تضحیک کی کسی کو اجازت نہیں دینگے: سپریم کورٹ

تارکین وطن کی تضحیک کی کسی کو اجازت نہیں دینگے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت)  سپریم کورٹ  میں ایئر پورٹس پر اوورسیز پاکستانیز کو سہولیات کی عدم فراہمی کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے چیئرمین سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایم ڈی اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن سے اوورسیز پاکستانیز کو سہولیات  کی فراہمی سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات اور عدالتی حکم پر عمل درآمد بارے تفصیلات طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 27  مئی تک ملتوی کر دی۔  دوران سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے بار بار احکامات کے باوجود 16 ارب روپے کا زرمبادلہ  بھیجنے والے تارکین وطن کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہیں رپورٹس میں کام کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں مگر عملًا کچھ نہیں کیا جاتا۔ تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر چیئرمین سول ایوی ایشن علی گردیزی اور ایم ڈی او پی ایف عدالت میں پیش  ہوئے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ سفر کے دوران پتہ چلاکہ تارکین وطن پاکستانیوں کیلئے جہاز میں  فراہم کیا جانے والے فارم بھی اردو زبان میں دستیاب نہیں ہوتا ہر دوسری زبان میں یہ فارم ہے صرف پاکستانیوں کیلئے  اپنی زبان میں نہیں آخر اس سے بڑی تذلیل کیا ہوگی بے چارے محنت کش تارکین وطن فارم بھرنے کیلئے جہاز میں  بھاگتے پھرتے رہے ہمیں بتایا جائے کہ یہ صورتحال کب ٹھیک ہوگی۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اخلاص ہو تو تارکین وطن کے مسائل حل کرنا مشکل کام نہیں، بے شک مسافروں کی تعداد گنجائش سے بڑھ رہی ہے لیکن دستیاب چیزوں کو تو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ آن لائن کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امر تکلیف دہ ہے کہ جس مقدمے کو ہاتھ لگاتے ہیں وہی  مقدمہ 40 سے 50 سال پرانا ہوتا ہے۔ ہم حکومت یا سول ایوی ایشن کا ادارہ نہیں چلا سکتے۔ ازخود نوٹس لیا‘ کیا یہ ضروری ہے کہ پاکستانی مسافروں کو ضروری فارم فرنچ‘ انگریزی‘ عربی یا چینی زبان میں بھی دیا جائے‘ اردو زبان میں یہ چیزیں کیوں نہیں دی جاتیں، حالات یہ ہیں کہ رجسٹرڈ تارکین وطن اپنے لوگوں سے دو دو سال بعد ملاقات کر پاتے ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ لوگ یا تو کنٹینروں میں مر جاتے ہیں یا پھر ان کی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور پھر ان کی اپنوں سے زندگی بھر ملاقات نہیں ہوتی‘ ائیر پورٹس بناتے وقت مستقبل کو مدنظر کیوں نہیں رکھا جاتا‘ نئے ائیر پورٹ کی تعمیر بھی ایک سکینڈل ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے جمعہ کو سماعت کے دوران مزید کہا کہ تارکین وطن ملک کو اربوں روپے کا زرمبادلہ ارسال کرتے ہیں ان کی تذلیل و تضحیک کی  کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔