بابر اعوان کی سپریم کورٹ میں پیشی پر مشاورت آخری مراحل میں

اسلام آباد (سجاد ترین/ خبرنگار خصوصی) وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کی 25 مئی کو سپریم کورٹ میں پیشی کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی سطح پر ہونے والی مشاورت آخری مرحلہ میں داخل ہوگئی۔ پیر کی رات ایوان صدر میں انتہائی اہم اجلاس ہو گا جس میں تمام مشاورت کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اتوار کی رات ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آئینی قانونی امور پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شامل آئینی قانونی امور کے ماہرین کا موقف تھا کہ حکومت پاکستان نے سوئس مقدمات کے لئے خط لکھا تو حکومت آئین کے آرٹیکل 248 کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوگی جبکہ وزیراعظم سمیت تمام ارکان پارلیمنٹ نے آئین کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان سپریم کورٹ میں یہ تمام صورتحال بیان کریں گے اگر عدالت نے خود صدر کو حاصل آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ ختم کردیا تو پھر اس بات کا امکان موجود ہے کہ حکومت سوئس عدالتوں کو خط لکھنے پر تیار ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق اٹارنی جنرل انور منصور کا وہ تحریری بیان میں پیش کیا گیا جس میں انور منصور نے ایوان صدر کو لکھ کردیا ہے کہ آئین کی دفعہ 248 کے تحت حکومت سوئس عدالتوں کو خط نہیں لکھ سکتی ہے۔ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں شامل رہنماوں نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انقلابی شعر بھی پیش کئے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے کہا ”کارخانہ شپ کو محو ہوں چلانے میں“ ساری رات لگتی ہے ایک دن بنانے میں“ اس کے جواب میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پی پی کے رہنما نے کہاکہ ”اب صدیوں کے اقرار اطاعت کو بدلنا لازم ہے کہ ان کا فرماں کوئی اترے“ اس کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے ان دونوں کو جواب دیتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہیں تو ہو گا شب مست موج کا ساحل‘ کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل“ ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں پہلی بار پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے انقلابی شاعری پیش کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شامل سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے کہاکہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی کیمسٹری کو تبدیل کرنا ہو گا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل پاکستان کی عدلیہ کی گردن پر ایک بدنما داغ ہے اب نئے عیسیٰ اور نئے سقراط کی نئی کہانی لکھی جائے گی۔ ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے مختلف آئینی اور قانونی پہلووں بارے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شامل ایک رہنما نے پوچھا کہ اگر سپریم کورٹ صدر کو حاصل استثنیٰ ازخود کارروائی کرکے ختم کردے تو پھر کیا ہو گا جس پر بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کیا تو پھر حکومت سوئس عدالتوں کو خط لکھ دے گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر قانون ڈاکٹر با بر اعوان کی سپریم کورٹ پیشی کے بعد کی صورتحال بارے بھی مختلف نکات زیربحث لائے گئے جس میں آئینی قانون حکمت عملی کے علاوہ سیاسی امور بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے کہاکہ ہماری حکومت کو انتخابات کے علاوہ کسی اور ذریعے سے ہٹایا گیا تو اس بار ملک میں ایسی تحریک چلے گی جس سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ اجلاس رات گئے تک جاری رہا۔