ضلعی حکومتوں کو ایک ہاتھ سے اختیار دیئے، دوسرے سے واپس لیے جا رہے ہیں: سپریم کورٹ

ضلعی حکومتوں کو ایک ہاتھ سے اختیار دیئے، دوسرے سے واپس لیے جا رہے ہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں لاہورکینال روڈ توسیعی منصوبے کے دوران درختوں کی کٹائی پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس کے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی اپیلوں کی سماعت کے دوران ایل ڈی اے کے وکیل کی جانب سے عدالت کوآگاہ کیا گیا کہ ایل ڈی اے کسں قانون اور طریقہ کار کے مطابق اختیارات استعمال کرتی ہے دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ ضلعی حکومتوں کو ایک ہاتھ سے اختیارات دیئے جاتے ہیں جبکہ دوسرے ہاتھ سے واپس لئے جارہے ہیں، عدالت آئین کے آرٹیکل 140-A پرکوئی سمجھوتہ نہیںکرسکتی جو بھی اختیارات جب کسی کو دیئے جاتے ہیں تو مکمل طور پر دیئے جاتے ہیں ۔ آرٹیکل 140 اے کا مطلب اختیارات کی عوامی نمائندوں کو منتقلی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ اس طرح کے منصوبے مقامی حکومتیں مکمل کرتی ہیں آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کوسیاسی ، انتظامی اور مالیاتی اختیارات دینے کی پابند ہے جس کے بعد ہی وہ اپنے مکمل اختیارات بروئے کار لاکر عوامی فلاح کے منصوبے مکمل کرسکتی ہے وہ سڑکیں بناسکتی ہیں انڈرپاسز مکمل کرسکتی ہیں فاضل وکیل بتائیں کہ جب یہ اختیارات مقامی حکومتوں کے ہیں تو ایل ڈی اے کوکس طرح مل گئے کیا مقامی حکومتیں کے اختیارات ختم ہوچکے یاکسی آئینی ترمیم کے ذریعے واپس لئے گئے ہیں ، فرض کریں کہ اگر ایل ڈی اے نہ ہوتی اور کوئی دوسرا قانون بھی نہ ہوتا تو یہ اختیار کس کے پاس ہوتا۔ وکیل پنجاب حکومت نے جواب دیاکہ ایسی صورت میں یہ اختیار مقامی حکومتوں کے پاس ہوتا اور وہی اس کو بروئے کار بھی لاتیں ، عدالت نے کہا کہ ہم نے یہ امر بھی دیکھنا ہوگا کہ اس اتھارٹی کے تحت سڑکیں بنوانے کا اختیارکس کے پاس ہے۔