جمہوری دور میں بعض معاملات فوجی عدالتوں کے تحت کرنا بھی آمریت ہے، کیسے اجازت دے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

 جمہوری دور میں بعض معاملات فوجی عدالتوں کے تحت کرنا بھی آمریت ہے، کیسے اجازت دے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے ٹرائل ریکارڈ کے بارے میں اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ٹرائل کی تمام تر تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں جو ویڈیوز کی شکل میں دی جائیں گی۔ تحریری دلائل بھی جمع کروا دئیے۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے کہ 1973ء کے آئین میں راستہ روکنے کے باوجود ملک پر آمریت مسلط رہی ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں کہا کہ اگر حکومت انقلاب کے خوف کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو مدد کیلئے بلا سکتی ہے تو ا ب بھی ایسا کیا جاسکتا تھا، فوجی عدالتیں بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ صدر کے پارلیمنٹ کی منظوری سے قبل دستخط کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی ملزم کو ٹرائل سے قبل ہی پھانسی دی جائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جمہوری دور میں بعض معاملات کو انتظامی طور پر فوجی عدالتوں کے تحت کر دینا بھی آمریت ہے جس کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں۔ اکیسویں ترمیم کو پڑھ کر لگتا ہے کہ ابھی بھی اس کوکوئی تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ عسکری قیادت کی جانب سے وفاقی حکومت کو فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے ترمیم کرنے کی ہدایت جاری ہونے کے بعد پھر21ویں ترمیم کی کوئی ضرورت نہ تھی۔جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ سوات میں کیا گیا کامیاب آپریشن فوجی عدالتوں کے تحت نہیں بلکہ آرٹیکل245 کے تحت کیا گیا تھا۔ اگر وہاں پر حالات بہتر ہوسکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں اور فوجی عدالتوں کے قیام کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے جبکہ اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے دلائل میں کہا کہ اگر مارگلہ پہاڑیوں کے پیچھے سے پانچ سو دہشتگرد حملہ کرتے ہیں تو کیا فوج ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی طرف دیکھے گی یا ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔ دارالحکومت پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے چڑھائی حالت جنگ نہیں تھی اس لئے آرٹیکل 245 کا سہارا لیا گیا۔انہوں نے یہ دلائل چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں17رکنی فل کورٹ بنچ کے روبرو منگل کے روز دئیے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 1973ء کے وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران کہا تھا کہ اب ہم نے آئین کے ذریعے فوجی آمروں کیلئے دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے باوجود دو آمر آئے۔ اے جی نے کہا کہ آرٹیکل 245 میں بھارتی آئین کا بھی حصہ ہے جس کے تحت ملک دشمن عناصر کے خلاف اور ملک کی سالمیت اور خود مختاری کیلئے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 245 کی موجودگی میں فوجی ایکٹ میں ترمیم کی کیا ضرورت تھی۔21 ویں ترمیم کے دیباچے میں کہا گیا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد فوجی عدالتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اے جی نے کہا کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے ہی یہ فوجی عدالتیں قائم کرنے کی ترمیم کی گئی۔ بھارت نے بھی اپنے آئین کے آرٹیکل59 میں عارضی ترمیم کی جو ہم نے بھی کی ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم اور 21 ویں ترمیم قومی اسمبلی میں ایک ہی وقت منظور ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا صدر نے دستخط کرتے وقت ٹائم درج کیا تھا کہ اس وقت کیا وقت تھا ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم مذاق تھا کہ جس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔اے جی نے کہا کہ لیاقت حسین کیس سے ساری چیز واضح ہو جاتی ہے۔ آج حقائق کی طرف آؤں گا۔ صباح نیوز کے مطابق عدالت نے قرار دیا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی فوج کے اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی ایمر جنسی میں انسانی حقوق کے بارے میں ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ختم ہوتا ہے۔ سوات اور دیر کے 95فیصد علاقے پر انتہاپسندوں کے قبضے کے بعد آرٹیکل 245کے تحت فوج بلائی گئی لیکن فوجی عدالتوں کا مطالبہ نہیں آیا اب جبکہ حالات نارمل ہیں متوازی عدلیہ کیوں قائم کی گئی؟فوج سول حکومت کی مدد کے لئے خود سے نہیں آسکتی وفاقی حکومت کہے گی تو فوج آئے گی۔ فوجی عدالتوں کے حق میں اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا دفاع پاکستان کے نام پر مسلح افواج کو کھلی چھٹی مل جاتی ہے کہ جو چاہے کرتی پھریں؟جبکہ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اپنایا ہے کہ اگر ملک حالت جنگ میں ہو یا جنگ کا خطرہ ہو اور فوج سول حکومت کی مدد کررہی ہو تو فوج کے اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل ہوجا تاہے اور فوج کو ملک کے تحفظ کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ جسٹس جوا دایس خواجہ نے ریمارکس دئے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے متوزای عدلیہ بنائی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ عدالتیں ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہیں جو دوران آپریشن گرفتار ہوچکے ہیں، جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ نے کہا شاید یہ معاملہ اس لئے عدالت لایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عالمی تصور کو عدالت سے بھی سند قبولیت مل جائے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس شق کا اطلاق پورے ملک پر ہوتا اور بنیادی انسانی حقوق معطل ہوجاتے۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا شیخ لیاقت حسین کیس میں یہ عدالت طے کرچکی ہے کہ فوجی عدالتوں کو آئین کا تحفظ حاصل نہیں اور ترمیم فوجی عدالتوں کو آئینی تحفظ دینے کے لئے کی گئی، قانون سازی اور انتظامی ایکشن دو الگ الگ چیزیں ہیں اگر فوج آئین کے تحت بلائی گئی تھی اور اسے آئینی تحفظ حاصل ہے تو پھر آئینی ترمیم کی کیا ضرورت تھی، یہ تو بہت خطرناک دلیل ہے کہ حالت جنگ میں فوج کو کھلی چھٹی مل جائے گی، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست کے تحفظ کے لئے فوجی عدالتیں بھی قائم کی جاسکتی ہیں اور ان میں کسی کا بھی ٹرائل کیا جا سکتا ہے؟جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا شیخ لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ اس دلیل کو مسترد کرچکی ہے کہ غیر معمولی صورتحال میں فوج کوکھلی چھٹی مل جاتی ہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ریاست کے تحفظ کے لئے پہلی ذمہ داری انتظامی حکومت کی ہے اور ہم جاننا چاہیں گے کہ حکومت نے اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں، جسٹس کھوسہ نے کہا اصل آئین میں ایک شق تھی کہ جنگ حکومت ڈکلئیر کرے گی،ہمارے سامنے دو ترامیم ہیں، ہمیں ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے خود ہی اس کی تشریح کرنی ہے۔