ڈرون حملوں کی عارضی بندش کا فیصلہ پاکستان امریکہ دفاعی حکام کے اجلاس میں کیا گیا

اسلام آباد (ثناء نیوز) پیس کور کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے دسمبر2013ء میں پاکستان امریکہ دفاعی حکام میں ہونیوالے مذاکرات کے نتیجہ میںکچھ عرصہ کیلئے ڈرون حملے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، فیصلہ مذکرات کے لئے وقت دینے اور بصورت دیگر آپریشن کی یقین دہانی پر کیا گیا،پاکستان نے امریکہ سے انٹیلی جنس شیئرنگ کی صورت میں خود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ پاکستان انٹرنل سیچویشن سنٹر آف ریسرچ (پیس کور)کی جانب سے ڈرون حملوں کی بندش اور چھ ماہ بعددوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے جاری کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں ایک اعلیٰ عسکری افسر کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کا چارج سنبھالتے ہی ڈرون حملے رکوا کرتحریک طالبان پاکستان کو مذکرات کا پورا موقع دینے کا فیصلہ کیا تھا اس ضمن میں پالیسی سازوں نے دفاعی حکام کے ذریعے امریکی حکام سے مذکرات کا ایک نیا دور شروع کیا جس میں پاکستان نے امریکہ کو یقین دلایا کہ دہشتگردوں کے خلاف ہر ممکن کاروائی کی جائیگی، لیکن اس سے قبل رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان کو مذاکرات کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا، تاہم اس دوران امریکہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا سلسلہ جاری رکھے، پاکستان ان معلومات کو کاؤنٹر چیک کرنے کے بعد بھرپور کارروائی کرے گا، اس حوالے سے انتہائی ضروری تھا کہ امریکہ پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملوں کا آپریشن روک دے۔رپورٹ میں بتایا گیاکہ پاکستان امریکی دفاعی حکام میں مذکرات کامیاب ہو گئے اور امریکہ نے وقتی طورپرڈرون حملے روک دیئے اور 168دنوں تک کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا۔