توانا پاکستان اور فیصل بینک فراڈ کیس میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری

اسلام آباد (نامہ نگار) قومی احتساب بیورو (نیب) نے توانا پاکستان کرپشن سکینڈل اور فیصل بینک قرضہ فراڈ سکینڈل کے ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دیدی، نیب نے چند پرانے مقدمات کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بند کر دیا، تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین نیب قمرالزامان چوہدری کی صدارت میں منعقدہوا،نیب بورڈ نے اپنے اجلاس میں دو ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دی ، پہلا ریفرنس توانا پاکستان کرپشن کیس میں سابق سیکرٹری وزارت سماجی بہبود نعیم خان، ڈائریکٹر محمد عرفان اور دیگر ملزموں کے خلاف منظور کیاگیا، مقدمے میں ملزمان نے پیپرا قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے خوراک سے متعلق ٹھیکہ میسرز  ویٹا پاکستان لمیٹٹد کو دیا اور خزانے کو 16 کروڑ 47  لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا،  بورڈ نے دوسرے ریفرنس کی منظوری فیصل بنک کے قرضہ فراڈ کے مقدمے میں شیخ محمد افضل اور 10  دیگر ملازموں کے خلاف دی، اس مقدمے میں ملزمان نے جعلی کاغذات پر بنک سے قرض لیا اور واپس کرنے میں بھی ناکام رہے، ملزموں سے 39  کروڑ  80  لاکھ روپے ابھی وصول کرنا باقی ہیں، ایگزیکٹو بورڈ نے ایف بی ار کے افسران اور ملازمین کے خلاف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی  اور دیگر ٹیکسوں میں غیر قانونی چھوٹ دینے کے مقدمے میں وفاقی ٹیکس محتسب سے رپورٹ لینے کا فیصلہ کیا،بورڈ نے اپنے اجلاس میں سابق صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ سندھ میر نادر علی مگسی، بلوچستان کے سابق ایم این اے سردار عاطف علی سنجرانی اور سابق سیکرٹری  پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اسلام آباد  سْہیل کریم ہاشمی کے خلاف ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر تین الگ الگ  انکوائریاں بند کرنے کی بھی منظوری دی،میسرز سعداللہ اینڈ برادرز کے خلاف قرضہ ڈیفالٹ کیس میں سٹیٹ بنک سے کیس کی صورتحال پر رپورٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بورڈ نے سابق چیئرمین واپڈا شکیل دْرانی کے خلاف واپڈا کی اراضی غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کے الزام پر موصول ہونے والی شکایت کو ثبوت  کی عدم دستیابی پر ختم کرنے کا فیصلہ کیاہے ،چیئرمین نیب نے تمام علاقائی دفاتر کو زیرالتو ا انکوائریاں اور تحقیقات کے حوالے سے اپنی سفارشات جلد از جلد اعلیٰ سطح کمیٹی کو بھیجنے کی بھی ہدایت بھی کی۔