آغازِ حقوق بلوچستان کی 171 خالی آسامیوں پر بھرتی کیلئے وزیر اعظم سے پابندی اٹھانے کی سفارش

اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وزیرمملکت عبد الحکیم بلوچ اور سنیٹرروزی خان کاکڑ میں جھڑپ، این ایچ اے میںبلوچستان کے افسران کوکرپٹ کہنے پر روزی خان کاکڑ واک آئوٹ کرکے باہرچلے گئے۔ قائمہ کمیٹی کی چیئرمین این ایچ اے کو موٹر وے پر موجود ہائوسنگ سوسائٹیوںکو راستہ نہ دینے کی ہدایت، انٹرچینج کاکم ازکم فاصلہ 20 کلومیٹر رکھا جائے۔ اجلاس میں موٹر وے پر این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے پاس 28 ٹول پلازے 20 کروڑ روپے دیکر واگزارکرانے کا انکشاف، قائمہ کمیٹی کی آغازِ حقوق بلوچستان کی 171 خالی آسامیوں کی بھرتی کیلئے وزیراعظم سے پابندی اٹھانے کی سفارش، وزیر مملکت عبد الحکیم بلو چ نے کہا کہ شاہراہوں کی مرمت کیلئے حکومت سے رقم نہیں ملتی، ٹول ٹیکس اور موٹر وے پولیس کے جرمانوں سے کام چلایا جا رہا ہے اور لواری ٹنل کیلئے حکومت سے پانچ ارب روپے کا فنڈ مانگا ہے۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر دائود خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین کمیٹی دائود خان اچکزئی نے کمیٹی کے پچھلے اجلاسوں کی سفارشات پر عمل نہ کرنے اور پوسٹ ماسٹر جنرل بلوچستان کی اجلاس میں غیرحاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ 18 سال سے کنٹریکٹ پر موجود افسر کوکمیٹی کی ہدایت کے باوجود ہٹایا نہیں گیا اور ہدایت دی کہ بلوچستان کے پوسٹ ماسٹرجنرل کو آج ہی عہدے سے ہٹاکر سینئر ترین افسر کو تعینات کیا جائے۔ وزیر مملکت عبدالحکیم بلوچ نے روزی خان کاکٹر کو چیئرمین این ایچ اے کے ساتھ رویہ درست رکھنے کی درخواست کی جس پر روزی خان کاکٹر اور عبدالحیکم بلوچ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اراکین نے بیچ بچائو کی پوری کوشش کی لیکن روزی خان کاکٹر وزیر مملکت کے ناروا رویے کیخلاف کمیٹی کے اجلاس سے احتجاجا ً واک آوٹ کرگئے جنہیں سینیٹر نثار محمد ، یوسف بادینی اور مختار دھامرا منا کر واپس لے آئے۔