گوادر سے چین تک ٹریک بچھانے کا منصوبہ ریلوے کو خسارے سے نکال سکتا ہے: ماہرین

گوادر سے چین تک ٹریک بچھانے کا منصوبہ ریلوے کو خسارے سے نکال سکتا ہے: ماہرین

اسلام آباد (محمد ریاض اختر/ خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت کو درپیش بحرانوں میں توانائی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے اور ریلوے سمیت مختلف اداروں کو شدید ترین خسارے سے نکالنے کا چیلنج بھی ہے۔ کیا وفاقی میزانیہ 2013-14ءمیں ریلوے کے لئے 30ارب کا بیل آﺅٹ پیکیج اسکی حالت میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان گوادر سے چین اور خنجراب تک ریلوے ٹریک بچھانے میں کامیاب ہو گیا تو اس واحد منصوبے سے ریلوے خسارہ سے نکل جائے گا تاہم نئے مزید ٹریک بچھانے کے لئے مستقبل قریب میں چین کے ساتھ ساتھ ترکی اور سعودی عرب سے بھی بات چیت کا امکان ہے۔ یاد رہے 1970ءکے اوائل تک ریلوے منافع بخش ادارہ شمار کیا جاتا تھا، فوجی اور سول حکومتوں کی طرف سے انتظامی عہدوں پر پسندیدہ افراد کی تعیناتی نے ریلوے پر ”خدمت کم اور سیاست زیادہ“ کی ردا تان دی۔ غیرقانونی اور غیرترقیاتی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ نے آمدن اور خرچے میں عدم توازن کا جو سلسلہ شروع کیا آج وہ پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلوے کو خسارے کی دلدل میں پہنچانے میں افسرشاہی اور کرپٹ مافیا نے خوب ”کام“ کیا۔ مستزاد ریلوے ٹریک روٹس میں بتدریج کمی تھی۔ 2008ءکے دوران 20ارب کے خسارے کا بوجھ اٹھانے والا محکمہ ریلوے افسران و حکام کی ”کمال مہربانی“ سے 2012ءمیں 40ارب کے خسارے تک جا پہنچا۔ پتہ چلا ہے کہ سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کے دور میں ریل کا پہیہ کئی مقامات پر جام ہوتا رہا، ریلوے کو آج بھی 2000کے قریب انجینئرز کی کمی کا سامنا ہے ناقص موبائل آئل کے استعمال سے سینکڑوں انجن بے کار ہونے کی خبریں بھی زباں زد عام ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اب بھی ریلوے کی 2450ایکڑ زرعی اراضی بااثر قابضین کے کنٹرول میں ہے مال بردار ٹرینوں کو ریونیو میں اضافہ کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تاہم ایک وفاقی وزیر نے اپنی گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کی خاطر ریلوے کی مال بردار گاڑیوں کا پہیہ روکا اب یہ مال بردار گاڑیاں لاہور ریلوے سٹیشن کے ڈپو سے داستان غم سنا رہی ہیں۔ 12سے 15گھنٹے روزانہ سیاسی، وزارتی اور حکومتی سرگرمیوں میں مصروف رہنے والے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کراچی سے لاہور، فیصل آباد، پشاور، سیالکوٹ اور دیگر سٹیشن پر مال بردار گاڑیاں بحال کرکے جہاں صنعت کار اور تاجروں کو فائدہ دے سکتے ہیں وہاں ریلوے ریونیو میں اضافہ کی طرف بھی تعمیری قدم اٹھا سکتے ہیں۔