مدارس کے حوالے سے لال مسجد کمشن کی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا

اسلام آباد (ثناءنیوز)لال مسجد کمشن کی رپورٹ میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے 18مدارس پر الزام عائد کیا گیا ہے ”ان 18مدارس نے لال مسجد آپریشن میں حکومت سے تعاون کیا تھا اور ان میں سے کچھ مدارس کو تعاون پر آمادہ کرنے کےلئے حکومت کو پیسے کا بھی استعمال کرنا پڑا“۔ رپورٹ میں سانحہ لال مسجد میں حکومت سے تعاون کرنیوالے 18میں سے بارہ مدارس کے نام بھی درج ہیں لیکن مدارس کے حوالے سے لال مسجد کمشن کی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا۔ کمشن کی رپورٹ میں مدارس کے حوالے سے یہ حیرت انگیز انکشاف اس وقت منظر عام پر آیا جب عدالتی معاون طارق اسد ایڈووکیٹ نے لال مسجد کمشن کی رپورٹ کے حوالے سے اپنی رپورٹ 7جون کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔
 مدارس کے حوالے سے لال مسجد کمشن کی رپورٹ کے مندرجات سامنے آنے کے بعد شہداءفاﺅنڈیشن لال مسجد نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدارس کے منتظمین سے مطالبہ کیا تھا کہ ”اگر ان کے دامن شہداءکے خون سے صاف ہیں تو وہ کمشن کی رپورٹ کے مدارس کے حوالے سے مندرجات کو میڈیا کے سامنے آکر مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کے مذکورہ مندرجات کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کریں“۔ مدارس کے منتظمین نے رپورٹ کے مندرجات سامنے آنے کے بعد دس روز تک میڈیا میں ازخود آکر اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کرنے سے گریز کیا۔ بالآخر بعض حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات کے اظہار کے بعد مدارس کے منتظمین نے 18جون کو جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مدارس پر عائد کئے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تاہم سپریم کورٹ میں الزامات کو چیلنج کرنے کے اعلان کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے مگر تاحال کسی بھی مدرسے نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔ شہداءفاﺅنڈیشن لال مسجد نے مدارس کے منتظمین کی طرف سے لال مسجد کمشن کی رپورٹ میں مدارس پر لگنے والے الزامات کو عدالت میں چیلنج کرنے کے اعلان کے باوجود تاحال چیلنج نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔