ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانا میرا چیلنج ہے، سال تک نئی ٹرین نہیں چلائینگے: سعد رفیق

ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانا میرا چیلنج ہے، سال تک نئی ٹرین نہیں چلائینگے: سعد رفیق

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ریلوے کی بحالی کیلئے مال بردار ٹرینوں کا نیٹ ورک بہتر بنایا جا رہا ہے‘ریلوے کی اراضی قابضین سے واگزار کرائیں گے، پٹے پر زمین کی الاٹمنٹ کا عرصہ 33 سال کیا جائے گا، ایک سال تک کوئی نئی مسافر ٹرین نہیں چلائیں گے۔ وہ اتوار کو پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے قومی اثاثہ ہے ہم اس کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرینگے، ریلوے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانا ہی میرا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ریلوے کی سالانہ آمدن 18 ارب روپے ہے، اخراجات اس سے زیادہ ہیں، رواں سال آمدن کا ہدف 22 ارب روپے کیا گیا ہے‘ہم نے حکومت سے مزید فنڈز نہیں لینے بلکہ ریلوے کے ذرائع آمدن میں اضافہ کر کے ریلوے میں بہتری لائیں گے۔ مشرف دور میں ایک جنرل کو ریلوے منسٹر بنایا گیا جس نے کمیشن کیلئے 69 انجن خریدے جن میں نقائص کے باعث اس وقت 58 انجن ورکشاپوں میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے 75 اے کلاس انجنوں کی خریداری صاف شفاف طریقہ کار کے ذریعے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سرکلر ٹرین کے منصوبے پر کام شروع کر رہے ہیں تاکہ وہاں شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم ہو سکیں۔ اس کے بعد لاہور اور فیصل آباد میں بھی اس طرح کے منصوبوں پر کام کرینگے۔ خواجہ سعد نے کہا کہ ریلوے کی اراضی کو قابضین سے واگزار کرا کے آئندہ پٹہ پر الاٹمنٹ کا عرصہ 33 سال تک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کرینگے ریلوے کی کچی آبادیوں کے مکینوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریلوے کے ساتھ ہمارے ریلوے نظام کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ان کی آبادی اور ٹرینوں کی تعداد میں بہت فرق ہے۔
سعد رفیق